سندھ حکومت کا ایم کیو ایم کو 29 نومبر کو شاہراہِ فیصل پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار

سندھ حکومت کا ایم کیو ایم کو 29 نومبر کو شاہراہِ فیصل پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار
کراچی(بی بی سی)حکومتِ سندھ نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کو 29 نومبر کو کراچی کی شاہراہِ فیصل پر جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں 29 نومبر کو شہر کی مرکزی شاہراہ پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسے کے لیے باقاعدہ اجازت لینا ہوگی اور اپنی سرگرمیاں پُرامن اور قانونی طریقے سے انجام دینا ہوں گی۔ انھوں نے ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شاہراہِ فیصل پر جلسے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی اور ایم کیو ایم کو 12 مئی جیسے واقعات دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں کرنے کی آزادی ہے، تاہم کوئی بھی فریق حکومت پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول حکومت کسی صورت تصادم اور بدامنی کی فضا پیدا نہیں ہونے دے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت صوبوں کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کر چکی ہیں۔ سندھ اسمبلی اس معاملے پر فیصلہ دے چکی ہے اور اس سے بالاتر کوئی قانون یا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ شرجیل میمن نے ایم کیو ایم رہنماؤں مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عوامی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ کونسلر بھی منتخب ہو سکیں۔ ان کا الزام تھا کہ یہ رہنما براہِ راست عوامی ووٹوں کے بجائے ’بیک ڈور اور چور دروازے‘ سے اسمبلیوں میں پہنچے ہیں۔ واضح رہے کہ قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی نے چند ہفتے قبل 29 نومبر کو کراچی میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پیر کو ایم کیو ایم نے بھی اسی روز جلسے کا اعلان کیا۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.