کوئٹہ میں فائرنگ اور رشوت ستانی میں ملوث اہلکار وں کوگرفتار کیاگیا، پولیس عوام کی خادم ہے، حاکم نہیں، ڈی آئی جی عمران شوکت

کوئٹہ میں فائرنگ اور رشوت ستانی میں ملوث اہلکار وں کوگرفتار کیاگیا، پولیس عوام کی خادم ہے، حاکم نہیں، ڈی آئی جی عمران شوکت
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے کہا ہے کہ کوئٹہ پولیس عوام کی خادم ہے، حاکم نہیں، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور کسی بھی اہلکار کو اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر کوئی پولیس اہلکار رشوت طلب کرے یا ناجائز طور پر ہراساں کرے تو فوری طور پر 15 پر کال کریں، کوئٹہ پولیس کی ویب سائٹ پر شکایت درج کریں یا متعلقہ شواہد اور ویڈیوز فراہم کریں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈی آئی جی پولیس آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز آصف خان ودیگر بھی موجود تھے ۔ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت نے کہا کہ چار مئی کو کوئٹہ میں پیش آنے والے پود گلی چوک فائرنگ اور MARK-X واقعہ کی تحقیقات کے بعد ملوث تینوں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کر دیئے گئے ہیں جبکہ شفاف تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، چاہے وہ پولیس اہلکار ہی کیوں نہ ہو۔ڈی آئی جی عمران شوکت نے بتایا کہ ایگل اسکواڈ اہلکاروں کے خلاف رشوت طلب کرنے کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کو کوارٹر گارڈ بند کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کے اندر بلاامتیاز احتساب کا عمل جاری رہے گا۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی پولیس اہلکار رشوت طلب کرے یا ناجائز طور پر ہراساں کرے تو فوری طور پر 15 پر کال کریں، کوئٹہ پولیس کی ویب سائٹ پر شکایت درج کریں یا متعلقہ شواہد اور ویڈیوز فراہم کریں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ڈی آئی جی نے کہا کہ پولیس اہلکار عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں اس لئے ہر اہلکار عوام کو جوابدہ ہے اور شہریوں کے ساتھ عزت، انصاف اور قانون کے مطابق رویہ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ SCIW کوئٹہ نے اغوا برائے تاوان کے حساس مقدمہ میں پانچ سالہ مغوی بچے مزمل احمد کو بحفاظت بازیاب کرلیا ہے۔ ان کے مطابق اغوا کار بیرون ملک سے تاوان طلب کر رہے تھے تاہم جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے ذریعے ایک خاتون ملزمہ کو گرفتار کرکے بچے کو بازیاب کرایا گیا۔ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ گزشتہ ماہ کوئٹہ میں 23 افراد قتل ہوئے جن میں سے 21 واقعات ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کو مختلف نوعیت کے سیکورٹی تھریٹس لاحق ہیں اور سخت حفاظتی اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ سے اب تک 150 تھریٹس موصول ہوچکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگرد اپنے طریقہ واردات تبدیل کرتے رہتے ہیں تاہم پولیس ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے متحرک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ ہی پرامن معاشرے کی بنیاد ہے اور کوئٹہ پولیس عوامی خدمت، شفاف احتساب اور قانون کی بالادستی کیلئے ہر وقت متحرک رہے گی۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.