اسلام آباد(دی باغوان)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بلوچستان پر پی ٹی آئی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آٹھویں آل پارٹیز کانفرنس ہے اور بلوچستان میں انتخابی کامیابی کے باوجود ان کی جماعت کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بلوچستان میں دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے قومی ایجنڈے پر تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے نیلسن منڈیلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ریاست کی اصل پہچان اس کے کمزور طبقات کے ساتھ رویے سے ہوتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل بھی ناگزیر ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا اس مقصد کے لیے کوئی مؤثر کمیشن بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ماحول میں نہ ترقی ممکن ہے اور نہ ہی استحکام، جبکہ حقیقی احتساب سے ہی حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں بھی دہشت گردی کا سامنا رہا، بعض اضلاع غیر محفوظ تھے اور باجوڑ میں کوآرڈینیشن کمیٹی بھی قائم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑی رہی مگر اسے مسلسل نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو محفوظ بنانا دراصل پاکستان کو محفوظ بنانا ہے، اس لیے بلوچستان کے عوام کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے عوامی مطالبات بھی مانے جائیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حقیقی عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اسمبلیوں میں آنا ہی ملک کے مفاد میں ہے اور بلوچستان کے حالات کی بہتری کے لیے وہاں کی نمائندہ جماعتیں جو بھی تجاویز دیں گی، تحریک انصاف ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].