10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم، افغان پناہ گزینوں کی واپسی جاری، غیر یقینی صورتحال برقرار

10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم، افغان پناہ گزینوں کی واپسی جاری، غیر یقینی صورتحال برقرار
اسلام آباد(بی بی سی)پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے ملک چھوڑنے کی مقررہ 10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس نوٹیفیکیشن کے بعد افغانستان واپس جانے والے افغان شہریوں کی تعداد میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ پشاور میں پولیس افسر فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں میں ایسے افغان شہریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے پاس پاکستان میں قیام کے قانونی دستاویزات موجود نہیں ہوتے، اور انھیں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت واپس افغانستان بھیجا جاتا ہے۔ پشاور کے مختلف علاقوں، جن میں حیات آباد، بورڈ بازار، ناصر باغ روڈ اور ٹاؤن شامل ہیں، میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے درمیان اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ بعض افغان شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت اس مدت میں ایک بار پھر توسیع کر سکتی ہے، اسی لیے وہ واپسی کے فیصلے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کا عمل بدستور جاری ہے اور ڈیڈ لائن کے بعد کے مرحلے کے لیے حکمتِ عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ترجیحی طور پر افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی چاہتی ہے، اس لیے پہلے انھیں زبانی طور پر وطن واپس جانے کی ہدایت دی جائے گی۔ اگر اس کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم افراد واپس نہ گئے تو پھر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں افغانستان واپس جانے والوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی تھی، تاہم اب دوبارہ واپسی کے عمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر طورخم کے رجسٹریشن مرکز میں بھی افغانستان واپس جانے والے افراد کی تعداد میں نسبتاً اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ادھر بعض افغان پناہ گزینوں نے، جو پاکستان میں مقیم پاکستانی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں یا جو افغانستان واپسی کی صورت میں اپنی جان کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں، عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں اب تک ایسے تقریباً 140 افراد درخواستیں دائر کر چکے ہیں۔ ان درخواست گزاروں میں سابق افغان سرکاری افسران، وہ افراد جو ماضی میں افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں، سابق جج اور موسیقی کے شعبے سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ افغانستان واپسی کی صورت میں انھیں سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کی پالیسی کسی ایک قومیت کے لیے نہیں بلکہ تمام غیر قانونی غیر ملکیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم اس پالیسی کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں پر پڑے ہیں، جن میں سے بہت سے افراد ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اپنی آئندہ صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی اور خدشات کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں تقریباً دو لاکھ افراد کو ملک بدر کیا گیا جبکہ باقی افراد رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس گئے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.