کوئٹہ(دی باغوان)زیارت کے علاقے مانگی ڈیم فیز تھری میں دہشت گردوں کے حملے میں 21 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے خلاف لواحقین کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ شہداء کے ورثاء نے لاشوں کے ہمراہ کوئلہ پھاٹک پر دھرنا دے رکھا ہے اور مطالبات کی منظوری تک تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق 7 جولائی کو زیارت کے علاقے مانگی ڈیم فیز تھری میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز سمیت 9 پولیس اہلکار موقع پر شہید ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور 21 پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے، جنہیں بعد ازاں شہید کرکے ان کی لاشیں زرغون غر کے علاقے میں پھینک دی گئیں۔
شہداء کے لواحقین نے سول اسپتال کوئٹہ سے لاشیں کوئلہ پھاٹک منتقل کرکے احتجاجی دھرنا دے دیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ شہداء کی تدفین نہیں کریں گے اور اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].