سربراہ بی این پی مینگل اختر جان مینگل نے ایک انٹرویو میں کہاہے کہ میں نے اس وقت بھی یہ بات کہی تھی جب پشاور سکول پر اندوہناک حملہ ہوا تھا اور میاں نواز شریف بطور وزیراعظم فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جس میں عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت موجود تھی۔ اس اجلاس میں میں نے مولانا فضل الرحمٰن سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ ایک عالمِ دین ہیں، میرا آپ سے یہ سوال ہے (جس کا تذکرہ میں نے بعد ازاں قومی اسمبلی کے فلور پر بھی کیا) کہ کیا کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف، بندوق یا ماضی کی طرح تلوار کی نوک پر، مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ مولانا صاحب کا واضح جواب نفی میں تھا۔
اس پر میں نے اپنا دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے، تو پھر آپ لوگ بندوق کی نوک پر ہم بلوچوں کو بھی زبردستی محبِ وطن یا اپنے تصور کے مطابق پاکستانی نہیں بنا سکیں گے۔ بندوق کی نوک پر حب الوطنی ہرگز مسلط نہیں کی جا سکتی، اس سے محض نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ ناانصافیاں، ظلم اور زیادتیاں ہمیشہ دوریاں اور بالآخر بغاوت کو جنم دیتی ہیں۔
آج کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بلوچستان ایک 'نفرتستان' میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس بے دردی سے بلوچستان کو قبرستان بنایا گیا ہے، اس کے نتیجے میں آج وہاں ریاستی پالیسیوں کے خلاف نفرت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ نفرت نہ ٹینکوں سے ختم ہو سکے گی، نہ عام بموں سے اور نہ ہی ایٹم بم کے استعمال سے۔ اگر طاقت کے زور اور بمباری سے نفرتوں کا خاتمہ ممکن ہوتا، تو ویتنام میں امریکہ کے خلاف، یا جاپان اور افغانستان میں روس، امریکہ اور نیٹو کے خلاف پنپنے والی نفرتیں کب کی دم توڑ چکی ہوتیں۔ زور زبردستی سے آپ کسی سے کچھ نہیں منوا سکتے۔
جہاں تک میرے ذاتی، سیاسی اور سماجی نظریات کا تعلق ہے، تو وہ نہایت واضح ہیں:
سیاست اور مزاحمت: میں سنجیدہ سیاسی لوگوں کے ساتھ شائستہ سیاست، جبکہ بدمعاشوں اور غنڈہ عناصر کے خلاف بھرپور مزاحمت پر یقین رکھتا ہوں۔
بات چیت اور طاقت کا استعمال: عقلمندوں اور باشعور لوگوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے، جبکہ سرپھروں سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال ہی واحد راستہ ہے۔
بلوچستان کا بنیادی مسئلہ: میرے نزدیک بلوچستان کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ 'بلوچ قومی شناخت' کا تسلیم نہ کیا جانا ہے۔
ریاستی اور مقامی غلطیاں: ملکی سطح پر اگر ہم پاکستان کی غلطیوں کا جائزہ لیں، تو یہ کوئی ایک نہیں بلکہ ہزاروں، بلکہ شاید لاکھوں کی تعداد میں ہوں گی۔ دوسری جانب، اگر بلوچ قیادت کی سب سے بڑی خامی کی بات کی جائے تو وہ ان کی باہمی نااتفاقی ہے۔
اپنی فکری نشوونما کے حوالے سے بات کروں تو قید و بند کی صعوبتوں کے دوران میں نے متعدد کتب کا مطالعہ کیا۔ تاہم، بچپن میں پڑھی جانے والی پہلی کتاب جس نے میرے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے، وہ سوویت انقلاب کے موضوع پر لکھی گئی 'دارالرسن کی آزمائش' تھی۔ اسی طرح، جہاں تک کسی ایک شخصیت سے متاثر ہونے کا سوال ہے، تو ہر انسان کے نزدیک اس کا اپنا ایک منفرد معیار اور آئیڈیل ہوتا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].