کوئٹہ (پ ر)زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین و سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی کی زیر صدارت منگل کے روز ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی، حاجی شیر علی مشوانی، حاجی عبدالجبار کاکڑ، کاظم خان اچکزئی، حاجی محمد افضل بدوزئی، حاجی عزیز سرپرہ، حاجی محمد حیات لہڑی سمیت دیگر رہنماں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان میں زراعت کو درپیش سنگین مسائل، قومی شاہراہوں کی بندش، امن و امان کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور زرعی انکم ٹیکس کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں سے موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی، بارشوں کے غیر معمولی پیٹرن، شدید گرمی، ژالہ باری، سیلابی ریلوں اور زیرزمین پانی کی گرتی ہوئی سطح نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پانی کی قلت، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قدرتی آفات نے پہلے ہی زمینداروں کی کمر توڑ دی ہے۔اجلاس کے شرکا نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تقریبا 70 فیصد زراعت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جہاں فصلیں تیار ہیں وہاں امن و امان کی صورتحال، مختلف علاقوں میں نافذ کرفیو اور قومی شاہراہوں کی بندش کے باعث زرعی اجناس، پھل اور سبزیاں بروقت منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں روپے مالیت کی فصلیں کھیتوں اور باغات میں خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف زمیندار بلکہ آڑھتی، ٹرانسپورٹر، مزدور اور پوری زرعی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ زمیندار ایکشن کمیٹی نے زرعی انکم ٹیکس سے متعلق اپنی سفارشات متعلقہ حکومتی کمیٹی کو پیش کی تھیں، جہاں انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان تجاویز کو قانون سازی کا حصہ بنایا جائے گا، لیکن حتمی مسودے میں زمینداروں کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا، جس سے کاشتکاروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، پانی کی شدید قلت، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور شاہراہوں کی بندش نے زمینداروں کو معاشی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے، زرعی ٹیکس کی وصولی کے لیے انہیں نوٹسز جاری کرنا اور دبائو ڈالنا کسی صورت مناسب نہیں۔ حکومت کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں اور زمینداروں کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔زمیندار ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ غیر معمولی حالات کے پیش نظر زرعی انکم ٹیکس کو فوری طور پر موخر کیا جائے، قومی شاہراہوں کو بحال کر کے زرعی اجناس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنائی جائے، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے متاثرہ زمینداروں کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے، زرعی شعبے کے لیے پانی، توانائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور زرعی پالیسی سازی میں زمیندار تنظیموں کی سفارشات کو شامل کیا جائے تاکہ بلوچستان کے زرعی شعبے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].