صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہاہے کہ امن وامان کا قیام ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے ،وفاقی وصوبائی حکومتیں بلوچستان میں قیام امن کیلئے موثر اقدامات کررہی ہے اس حوالے سے عوام کی بھرپور تعاون کی ضرورت ہے ،ہنہ کے نوجوان کی شہادت افسوسناک ہے ،دہشتگردوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے موثر آپریشنز جاری ہے ،ہنہ اوڑک میں قیام امن کیلئے لواحقین اور قبائلی معتبرین سے دونشستیں ہوچکی ہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان اس حوالے سے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کے روز ہنہ اوڑک چوک میں دھرنے کے شرکاء سے کامیاب مذاکرات کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ شاہ زیب خان کاکڑ،ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت ودیگراعلیٰ حکام موجود تھے ۔وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے یقین دہانی کرائی کہ ہنہ اوڑک میں امن وامان سے متعلق دو دنوں میں اجلاس ہوگا جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران ،لواحقین سمیت دیگر شریک ہونگے ،اجلاس میں قیام امن کے حوالے سے امور کاجائزہ لیاجائے گا،حکومت بلوچستان کی جانب سے لواحقین کو مکمل تعاون فراہم کی جائیگی ،واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی ،جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کو مراسلہ بھجوادیا ہے چیف جسٹس جویڈیشل کمیشن کیلئے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن بنائیںگے ،انہوں نے کہاکہ ایس ایچ او کو غفلت پر معطل کردیاگیاہے ،ہنہ اوڑک میں قیام امن کیلئے علاقہ معتبرین اور عوام کے ساتھ مل کر کام کیاجائے گا اور امن وامان کو یقینی بنائیں گے ،وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے شہید ریاض کاکڑ کیلئے حکومتی پالیسی کے مطابق مالی تعاون کااعلان کیا،ہنہ اوک لواحقین کمیٹی نے جس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے انہوں نے صرف اور صرف اپنے ایک پوائنٹ ایجنڈے پر عمل درآمد کیلئے جدوجہد کی لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا گیاجو افسوسناک ہے ،امن وامان کے قیام کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے سرگرم عمل ہیں ۔شہداء ہمارے لئے انتہائی احترام رکھتے ہیں ،مالی مدد انسانی جان کے نعم البدل نہیں لیکن متاثرہ خاندان کا کچھ مدد ممکن ہوپاتاہے ۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].