بلوچستان میں حقیقی ترقی، انصاف اور اسے بااختیار معاشرہ بنانے کیلئے قبائلی نظام پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے ،صوبائی وزیر میرظہوراحمد بلیدی

بلوچستان میں حقیقی ترقی، انصاف اور اسے بااختیار معاشرہ بنانے کیلئے قبائلی نظام پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے ،صوبائی وزیر میرظہوراحمد بلیدی
صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان کو حقیقی ترقی، انصاف اور بااختیار معاشرہ بنانا ہے تو قبائلی نظام پر سنجیدہ نظرثانی ضروری ہے جو میرٹ، عوامی شمولیت اور جوابدہی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ وقت آ گیا ہے کہ قبائلیت، شخصیت پرستی اور موروثی بالادستی کے بجائے اہلیت، انصاف، جمہوری اقدار اور عوامی نمائندگی کو فروغ دیا جائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کیا۔ میر ظہور احمد بلیدی نے کہاکہ تاریخی طور پر بلوچوں کا روایتی قبائلی نظام مشاورت، اہلیت اور اجتماعی شمولیت پر مبنی ہوا کرتا تھا، جہاں قبیلے کی قیادت جمہوری انداز میں اس فرد کے سپرد کی جاتی تھی جو دانش، بہادری، تدبر اور قبیلے کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین صلاحیتوں کا حامل ہوتا، نہ کہ صرف موروثی حق کی بنیاد پر۔ تاریخ میں یہ مقف بھی پیش کیا جاتا ہے کہ برطانوی دور کی پالیسیوں، خصوصا رابرٹ سنڈیمن کے نظام، نے قبائلی ڈھانچے کو اس انداز میں تبدیل کیا کہ وفاداری کو اہلیت پر فوقیت دی گئی اور موروثی سرداری کو مزید مضبوط کیا گیا۔ اس تبدیلی نے بلوچ معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی ارتقا کو محدود کیا، مقامی قیادت کی فطری نشوونما کو متاثر کیا اور قبائل میں جانشینی کی قیادت کے روایتی ڈھانچوں کو بھی شدید متاثر کیا۔ اگر بلوچستان کو حقیقی ترقی، انصاف اور بااختیار معاشرہ بنانا ہے تو قبائلی نظام پر سنجیدہ نظرثانی ضروری ہے جو میرٹ، عوامی شمولیت اور جوابدہی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ وقت آ گیا ہے کہ قبائلیت، شخصیت پرستی اور موروثی بالادستی کے بجائے اہلیت، انصاف، جمہوری اقدار اور عوامی نمائندگی کو فروغ دیا جائے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.