نئے صوبے نہیں ہر ڈویژن کو ریاست بنائیے لسانی تقسیم کے بجائے پاکستان میں طاقتور انتظامی یونٹس کا نیا ماڈل روشناس کرائیں

نئے صوبے نہیں ہر ڈویژن کو ریاست بنائیے لسانی تقسیم کے بجائے  پاکستان میں طاقتور انتظامی یونٹس کا نیا ماڈل روشناس کرائیں
گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث جاری ہے کوئی جنوبی پنجاب کوئی ہزارہ اور کوئی بلوچستان سمیت دوسرے علاقوں میں نئے صوبوں کی بات کر رہا ہے یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے مگر گزشتہ روز میں نے تصویر کا ایک رخ پیش کیا تھا آج دوسرا رخ قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں میرا سوال سادہ ہے کیا پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے یا موجودہ صوبوں کے اندر طاقتور انتظامی یونٹس کی میری تجویز ہے کہ نئے لسانی یا نسلی صوبے بنانے کے بجائے ہر ڈویژن کو ایک بااختیار انتظامی یونٹ بنایا جائے ایسا یونٹ جس کا اپنا گورنر منتخب وزیراعلیٰ مختصر کابینہ بااختیار اسمبلی ہو چیف سیکریٹری آئی جی پولیس محکموں کے سیکریٹری اپنا بجٹ مالیاتی نظام پبلک سروس کمیشن تعلیمی بورڈ صحت کا نظام اور مضبوط بلدیاتی ڈھانچہ ہو ہر انتظامی یونٹ کا ہائی کورٹ ہو جہاں انصاف ہر دہلیز پر میسر ہو یعنی اختیار صرف فائلوں میں منتقل نہ ہو بلکہ اختیار کے ساتھ وسائل ذمہ داری اور جواب دہی بھی منتقل ہو بلوچستان اس ماڈل کی سب سے بڑی مثال بلوچستان کا رقبہ وسیع ہے آبادی دور دور تک پھیلی ہوئی ہے اور کئی علاقے کوئٹہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہیں کیا کوئٹہ میں بیٹھا ایک سیکریٹری ایک ڈائریکٹر جنرل یا ایک چیف انجینئر پورے بلوچستان کے ہر اسکول اسپتال سڑک اور سرکاری دفتر کی مؤثر نگرانی کرسکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ کوئٹہ میں افسران بیٹھے ہیں اور دور دراز علاقوں میں عوام اپنے مسائل کے ساتھ بیٹھے ہیں ژوب کا نمائندہ اگر صحت کا وزیر بن جائے تو کیا اسے گوادر کے اسپتال کی حقیقی صورتحال کا علم ہوگا خضدار کا وزیر کیا ژوب کے اسکولوں کی حالت روزانہ دیکھ سکتا ہے یہی انتظامی مرکزیت کا بحران ہے اگر ہر ڈویژن کو اپنی حکومت مل جائے تو حکومت عوام کے قریب ہوگی افسر عوام کے قریب ہوگا اور جواب دہی بھی عوام کے قریب ہوگی اپنا چیف سیکریٹری اپنا آئی جی ہر انتظامی یونٹ کا اپنا چیف سیکریٹری ہو لیکن اس میں شرط یہ ہونی چاہئے کہ صوبے کے چیف سیکٹری گریٹ 21 یا 20 کا ہو کیونکہ جس کے ماتحت صحت تعلیم خزانہ داخلہ مواصلات آبپاشی بلدیات اور دیگر محکموں کے سیکریٹری موجود ہو اسی طرح ہر یونٹ کا اپنا آئی جی پولیس ہو لیکن پولیس کسی سیاسی حکومت کی ذاتی فورس نہیں بلکہ قانون کی محافظ ہو اس کی تقرری تبادلے اور مدتِ ملازمت ایسا نظام طے کرے جس سے سیاسی مداخلت کم اور عوامی جواب دہی زیادہ ہو کابینہ مختصر اختیار واضح احتساب سخت نئے انتظامی یونٹس کا مقصد نئی سیاسی اشرافیہ پیدا کرنا نہیں کابینہ مختصر ہو مراعات محدود ہوں پروٹوکول کم سے کم ہو اور ہر وزیر اپنے محکمے کی کارکردگی کا جواب دے بااختیار اسمبلی ہو جو بجٹ کی منظوری دے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرے افسران سے سوال کرے اور عوامی شکایات کا جائزہ لے وزیر افسر اور ٹھیکیدار تینوں جواب دہ ہوں پیسہ جہاں کا فیصلہ بھی وہیں کا اگر اختیار ڈویژن کو دے دیا جائے لیکن خزانہ صوبائی دارالحکومت کے پاس رہے تو اصلاح ادھوری ہوگی اس لیے ہر انتظامی یونٹ کے لیے شفاف مالیاتی فارمولہ ہونا چاہیے جس میں آبادی رقبہ پسماندگی غربت اور بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے ہر یونٹ اپنا بجٹ بنائے اور بجٹ کا ایک ایک روپیہ عوام کے سامنے ہو ہر ترقیاتی منصوبے کا ٹینڈر آن لائن لاگت ظاہر مقام واضح تکمیل کی تاریخ مقرر اور ادائیگی کا ریکارڈ عوام کے لیے دستیاب ہو سڑک فائل میں نہیں زمین پر بننی چاہیے نوکری اور تعلیم میں مقامی میرٹ ہر بڑے انتظامی یونٹ میں میرٹ پر مبنی پبلک سروس کمیشن یا بھرتی کا شفاف نظام ہو امتحانات اور نتائج ڈیجیٹل ہوں تاکہ کسی وزیر رکن اسمبلی یا بااثر شخص کی سفارش کے بغیر غریب کا بچہ بھی اپنی قابلیت پر سرکاری ملازمت حاصل کرسکے اسی طرح ہر یونٹ میں ضرورت کے مطابق تعلیمی بورڈ ٹیکنیکل ادارے اعلیٰ تعلیمی مراکز اور جدید اسپتال قائم کیے جائیں ہائی کورٹ بار اختیار ہو ہر انتظامی یونٹ کا چیف جسٹس متعین ہو اس میں جج صاحبان ہو ایک چیف جسٹس پورے صوبے کو کنٹرول نہ کرے جج صاحبان کی تقرری سیاسی بندر بانٹ کی جگہ میرٹ اور امتحان کے ذریعے ہو بلوچستان کے شہریوں کو ہر معمولی کام کے لیے کوئٹہ آنے کی ضرورت نہ رہے ریاست کو تقسیم نہیں اختیار کو تقسیم کریں یہ ماڈل پاکستان کو لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں کرے گا بلکہ انتظامی طور پر مضبوط کرتا ہے اور ہر محکمہ میں فرعونیت کی ختم ہو گی ہر چیف سیکٹری سیکٹری اور ڈپٹی کمشنر کو احساس ہو گا کہ ہم عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہیں یوں ہر انتظامی یونٹ دوسرے سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گا مقابلہ زبان نسل اور قومیت کا نہیں کارکردگی کا ہوگا یہ نظام آئین سے باہر نہیں بنایا جاسکتا اس کے لیے آئینی ترمیم صوبائی قوانین اور واضح مالیاتی و انتظامی اختیارات درکار ہوں گے اسی لیے اسے کسی ایک جماعت یا حکومت کا منصوبہ بنانے کے بجائے قومی انتظامی اصلاحات کا حصہ بنانا چاہیے آج پاکستان کو ایک اور لسانی بحث میں الجھانے کے بجائے ہمیں ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا ہمیں صوبے توڑنے ہیں یا اختیار عوام تک پہنچانا ہ میری نظر میں ہمیں صوبے توڑنے کی نہیں اختیار توڑ کر عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے ہمیں نئے نقشے سے پہلے نیا نظام چاہیے ایسا نظام جس میں گورنر آئینی نگہبان ہو منتخب حکومت انتظامی امور چلائے بیوروکریسی قانون کے تابع ہو پولیس عوام کو جواب دے بجٹ عوام کے سامنے ہو اور ہر طاقتور شخص قانون کے اندر رہے نئے صوبے بنانے سے پہلے ہر ڈویژن کو اپنی حکومت دیجئے میری نظر میں بلوچستان کے حالات بھی ٹھیک ہونگے اور احساس محرومی کمی اور گوڈ گورنس قائم ہو گا کیونکہ جب حکومت عوام کے قریب ہوگی اختیار عوام کے قریب ہوگا بجٹ عوام کے قریب ہوگا اور احتساب بھی بلا تفریق ہو گا تو شہری صرف ریاست کے بارے میں بات نہیں کریں گے وہ ریاست کو اپنے درمیان محسوس کریںں گے.

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.