عالمی اداروں کو بدلتے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی توجہ بنیادی ذمہ داریوں اور تنازعات کے حل پر مرکوز کرنا ہوگی ، امریکی وزیر خارجہ

عالمی اداروں کو بدلتے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی توجہ بنیادی ذمہ داریوں اور تنازعات کے حل پر مرکوز کرنا ہوگی ، امریکی وزیر خارجہ
اقوام متحدہ (اے پی پی):امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر دنیا میں ایک مؤثر اور فعال بین الاقوامی نظام موجود ہو تو پاکستان اور بھارت سمیت مختلف ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کیا جاسکتا تھا۔ بی بی سی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی نظام اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور عالمی رہنماؤں میں اس بات پر وسیع اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ اسے اپنی اصل ترجیحات اور کردار کی جانب واپس لانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے کئی بڑے تنازعات کو حل کرنے میں بین الاقوامی ادارے مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے پاس ایسا فعال بین الاقوامی نظام موجود ہوتا تو ہم تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ یا انڈیا اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ تنازعات کو حل کر سکتے تھے ۔ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ جب بین الاقوامی نظام مؤثر ثابت نہ ہو تو ریاستیں اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق، عالمی اداروں کو اپنی توجہ بنیادی ذمہ داریوں اور تنازعات کے حل پر مرکوز کرنا ہوگی تاکہ وہ بدلتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹ سکیں۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.