مصنوعی مہنگائی اور ملاوٹ کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر

مصنوعی مہنگائی اور ملاوٹ کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر
کوئٹہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کم وزن روٹی فروخت کرنے والے دو درجن سے زائد تندور مالکان کے خلاف کارروائی، گرفتاریوں اور جرمانوں کا اقدام خوش آئند اور عوامی مفاد میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب عام شہری کی قوتِ خرید پہلے ہی مسلسل دباؤ کا شکار ہے، وہاں اشیائے ضروریہ کے وزن میں کمی، معیار پر سمجھوتہ اور من مانی قیمتوں کے ذریعے شہریوں سے اضافی رقم وصول کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ عوام نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ یہ اقدام محض وقتی مہم ثابت نہ ہو بلکہ بلاامتیاز اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔ کوئٹہ کے مختلف علاقوں، بالخصوص کلی برات، پائند خان اور دیگر علاقوں سے مقررہ وزن سے کم روٹی کی فروخت اور من مانی قیمتوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ ان علاقوں سمیت شہر بھر میں تندوروں کی باقاعدہ نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے تاکہ شہریوں کو مقررہ وزن اور سرکاری نرخ کے مطابق روٹی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ تاہم مسئلہ صرف روٹی کی کم وزنی تک محدود نہیں۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو ملاوٹ، ناقص معیار اور ناجائز منافع خوری کی صورت میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ دودھ میں پانی اور دیگر اشیا کی ملاوٹ، مصالحہ جات میں بھوسے اور مضر اجزا کا استعمال، غیر معیاری اور نقلی اشیائے خوردونوش کی فروخت سمیت متعدد شکایات شہریوں میں تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ یہ معاملات صرف صارفین کو مالی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ اس لیے متعلقہ محکموں کو ملاوٹ کے خلاف محض نمائشی کارروائیوں کے بجائے مستقل، مؤثر اور نتیجہ خیز نگرانی کا نظام وضع کرنا ہوگا۔ اسی طرح گوشت کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر انتظامیہ سرکاری نرخ مقرر کرتی ہے تو ان پر عملدرآمد یقینی بنانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ دکانداروں کو من مانی قیمتیں وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جبکہ صارف کو مقررہ نرخ پر مطلوبہ وزن اور معیاری اشیا کی فراہمی اس کا بنیادی حق ہے۔ سرکاری نرخنامہ صرف دکانوں پر آویزاں کرنے سے مقصد حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اس پر عملی عملدرآمد بھی نظر آنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ صرف شکایت موصول ہونے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر بازاروں، تندوروں، دودھ کی دکانوں، قصابوں اور اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والے مراکز کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے۔ قیمت، وزن اور معیار کی باقاعدہ جانچ کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بھی بہتر بنایا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ بار بار قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس سلسلے میں شفافیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں، جرمانوں اور ضبط شدہ ناقص اشیا کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں تاکہ شہریوں کو معلوم ہو کہ شکایات پر عملی طور پر کیا اقدامات کیے جارہے ہیں۔ محض چند دکانوں یا تندوروں کے خلاف کارروائی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ مستقل نگرانی اور تسلسل ہی مؤثر نتائج کی ضمانت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کم وزنی، زائد قیمت یا ملاوٹ کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے متعلقہ حکام کو شکایت کریں۔ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ایسی شکایات کو سنجیدگی سے لے، فوری کارروائی کرے اور شکایت کنندہ کو اس کے نتیجے سے آگاہ کرے۔ عوام اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔ کوئٹہ میں کم وزن روٹی کے خلاف حالیہ کارروائی ایک مثبت مثال ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ کارروائی ایک مستقل پالیسی اور مؤثر نگرانی کے نظام میں تبدیل ہو۔ مصنوعی مہنگائی، کم وزنی، ملاوٹ اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اور بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں کم وزن، ناقص معیار اور من مانی قیمتوں کی صورت میں مزید استحصال سے بچانا حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کم وزن روٹی کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی کو محض ایک وقتی مہم نہ بننے دیا جائے بلکہ ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، کم وزنی اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مستقل اور بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے، تاکہ کوئٹہ کے شہریوں کو مہنگائی کے ساتھ مصنوعی مہنگائی اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کے دوہرے عذاب سے نجات دلائی جاسکے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.