کوئٹہ میں ڈائلاسس کی سہولت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت

کوئٹہ میں ڈائلاسس کی سہولت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت
1943ء میں نیدرلینڈز کے ایک ڈاکٹر ولیم کولف نے ایک ایسی مشین تیار کی جسے بعد میں دنیا نے مصنوعی گردہ کہا اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایک دن یہی مشین دنیا بھر میں گردوں کے ناکارہ ہونے والے مریضوں کے لیے زندگی کی امید بن جائے گی ڈائلاسس کی تاریخ دراصل انسانی طب کی ان کوششوں میں شامل ہے جہاں سائنس نے ایک ایسے عضو کا عارضی متبادل فراہم کیا جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا آج تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک میں ڈائلاسس ایک باقاعدہ طبی سہولت بن چکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے کوئٹہ میں گردوں کے مریض کو یہ سہولت اس آسانی سے میسر ہے جس کا وہ حق دار ہے جناب وزیر اعلیٰ بلوچستان صاحب میں آج آپ کی توجہ کوئٹہ کے ایک ایسے مسئلے کی طرف دلانا چاہتا ہوں جس کا تعلق کسی سیاسی جماعت علاقے یا طبقے سے نہیں بلکہ انسانی زندگی سے ہے یہ بات خوش آئند ہے کہ ان دنوں آپ کی توجہ کوئٹہ کے مسائل کی طرف ہے جس کے بارے میں کئی بار لکھ چکا ہوں کوئٹہ پیکج کے تحت شاہراہوں کی توسیع ٹریفک انجینئرنگ بیورو کا قیام گرین اور پنک بسیں طلبہ کے لیے بیرون ملک اسکالرشپس کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے سمیت انتظامی نوعیت کے بعض اقدامات ایسے ہیں جنہیں مثبت انداز میں دیکھا جا سکتا ہے اور جن کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے لیکن اسی کوئٹہ میں ایک ایسا مسئلہ بھی بڑھ رہا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائلاسس کی سہولت طبی شواہد کے مطابق ذیابیطس گردوں کی بیماری کی ایک بڑی وجہ ہے اور ذیابیطس کے مریضوں میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نمایاں ہوتا ہے کوئٹہ کے شہری بھی گزشتہ کچھ عرصے سے شوگر اور گردوں کے امراض کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں خصوصاً ایسے نوجوانوں اور بچوں کے بارے میں بھی شکایات سامنے آتی ہیں جو گردوں کی بیماری کے باعث ڈائلاسس تک پہنچ جاتے ہیں اس بارے میں بلوچستان کے محکمہ صحت کو باقاعدہ اعداد و شمار جمع کرکے عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں تاکہ اندازوں کے بجائے اصل صورتحال واضح ہو سکے جناب وزیر اعلیٰ صاحب گردے کا مریض ایسا مریض ہے جو ایک مرتبہ باقاعدہ ڈائلاسس کا محتاج ہو جائے تو اس کے لیے یہ کوئی ایک دن یا ایک ہفتے کا علاج نہیں رہتا ہیموڈائلاسس اکثر ہفتے میں متعدد مرتبہ درکار ہوتا ہے ذرا اس خاندان کا تصور کریں جس کا ایک نوجوان یا نوجوان بچی ہفتے میں کئی مرتبہ اسپتال جانے پر مجبور ہو گھر کے افراد روزگار چھوڑ کر مریض کے ساتھ جائیں سفر کا خرچ برداشت کریں ادویات اور دیگر ضروری سامان کا انتظام کریں اور پھر اسپتال پہنچ کر معلوم ہو کہ مشین خراب ہے یا مطلوبہ سہولت دستیاب نہیں یہ صرف طبی مسئلہ نہیں پورے خاندان کا معاشی اور انسانی بحران بن جاتا ہے کوئٹہ میں گڈنی ہسپتال سمیت بعض سرکاری مراکز میں ڈائلاسس کی سہولت موجود ہے سول اسپتال کوئٹہ بے نظیر اسپتال اور دیگر طبی مراکز میں بھی ڈائلاسس کی سہولت ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن عوامی شکایات یہ ہیں کہ بعض اوقات مشینیں خراب ہوتی ہیں یا ضروری ادویات اور سامان دستیاب نہیں ہوتا اگر ایک مریض ڈائلاسس کے لیے سرکاری اسپتال پہنچے اور اسے کہا جائے کہ ضروری دوا یا سامان باہر سے خرید کر لائیں تو اس غریب مریض کے لیے یہ سہولت کتنی قابلِ رسائی رہ جاتی ہے اور اگر عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت ڈائلاسس کی سہولیات کم یا ختم کرنے جا رہی ہے تو محکمہ صحت کو اس بارے میں واضح اور دوٹوک وضاحت دینی چاہیے تاکہ مریضوں اور ان کے خاندانوں میں پائی جانے والی تشویش دور ہو وزیر اعلیٰ صاحب ایک عملی قدم اٹھائیے میری آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ کوئٹہ کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں موجود ڈائلاسس یونٹس کا فوری اور جامع آڈٹ کرایا جائے یہ معلوم کیا جائے کتنی ڈائلاسس مشینیں موجود ہیں کتنی فعال اور کتنی خراب ہیں روزانہ کتنے مریض ڈائلاسس کے منتظر رہتے ہیں ضروری ادویات اور ڈائلاسس کا سامان مستقل دستیاب ہے یا نہیں تربیت یافتہ عملے کی کتنی کمی ہے موجودہ ضرورت کے مقابلے میں مزید کتنی مشینوں کی ضرورت ہے اور جہاں کمی ہو وہاں نئی ڈائلاسس مشینیں تربیت یافتہ عملہ ضروری ادویات اور تمام متعلقہ طبی سامان فوری فراہم کیا جائے یہی مطالبہ بلوچستان کے وزیر صحت سے بھی ہے وزیر اعلیٰ صاحب ایک سڑک بننے سے ہزاروں لوگوں کو سہولت ملتی ہے ایک بس چلنے سے بہت سے لوگ اپنی منزل تک پہنچتے ہیں لیکن ایک ڈائلاسس مشین چلنے سے ایک ایسے انسان کی زندگی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے جس کے لیے اس مشین کے بغیر زندگی انتہائی مشکل ہو سکتی ہے دنیا نے 1940ء کی دہائی میں مصنوعی گردے کے ذریعے امید کا ایک نیا باب کھولا تھا آج ہماری ذمہ داری ہے کہ اس امید کو اپنے اسپتالوں تک پہنچائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ کوئٹہ کا کوئی مریض صرف اس لیے ڈائلاسس سے محروم نہ ہو کہ سرکاری اسپتال میں مشین موجود نہیں خراب ہے یا ضروری سامان دستیاب نہیں جناب وزیر اعلیٰ بلوچستان صاحب آپ کوئٹہ کے لیے بہت سے منصوبے بنا رہے ہیں میری درخواست ہے کہ گردوں کے مریضوں کی زندگی کو بھی اپنے ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنائیں اگر آپ کے دور میں کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ڈائلاسس کی مشینیں پوری تعداد میں فعال ہو جائیں ضروری ادویات دستیاب ہوں اور مریض کو بروقت علاج ملنے لگے تو شاید ان مریضوں کی دعائیں بھی آپ کی حکومت کے لیے کسی بھی بڑے منصوبے سے کم اہم نہ ہوں کیونکہ سڑک انسان کو منزل تک پہنچاتی ہے، لیکن صحت کی سہولت انسان کو زندگی کی طرف واپس لاتی ہے اس کالم میں میں نے وزیر اعلی صاحب کو کئی مرتبہ مخاطب کیا ہے اب کا مطلب ہے مجھے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی سے یہ امید ہے کہ وہ اس بابت خصوصی توجہ دیں گے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.