ایک گِٹھ کا فاصلہ

ایک گِٹھ کا فاصلہ
میری آج کی بات سے شاید بہت ساروں کی دل آزاری ہو لیکن جو واقعہ میں نے دیکھا اور جس بات کو میں نے شدت سے محسوس کیا میں اسے آپ تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ تقریباً جوانی سے لے کر اب تک میں نے ایک بات ہمیشہ محسوس کی۔ میں نے ہزارہ قوم میں بہت زیادہ نظم و ضبط دیکھا ہے آپ ان کی صفائی کے حوالے سے بات کر لیں، ان کے کام کے حوالے سے بات کر لیں میں نے ہمیشہ ان کے اندر بہت زیادہ ڈسپلن دیکھا ہے۔ وہ چاہے کسی افسر کی شکل میی ہو کسی کلرک کی شکل میی ہو دکان دار کی شکل میں ہو رکشے والے کی شکل میں ہو کسی بھی شکل میں ہو جب وہ بات کریں گے تو وہ شائستہ الفاظ استعمال کریں گے۔ بوبخشی معافی، زندہ باشی اور تشکر شکریہ ۔دونوں کے الفاظ استعمال کریں گے۔اور یہ شاید اس وجہ سے بھی ہے کہ اسکول کے وقت سے اب تک میرے کافی دوست ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں جب بھی چودہ اگست کے موقع پر گھر سے شہر کی جانب آتا ہوں تو ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا تھا۔ مطلب آپ ایسے سمجھیں ہمارے پشتون، بلوچ اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس مل کر بدتمیزی کا طوفان انہوں نے قائم کیا ہوا ہوتا تھا۔ میں سوچتا تھا اور میں سب سے کہتا تھا بھی یہ دیکھو یہ کیسی قوم ہے جو اس خاص موقعے پہ اس طرح کی بدتمیزی کر رہی ہے، نہ وہ کسی فیملی کا لحاظ کر رہے ہیں اور نہ کسی کی انفرادی خوشی کا لحظ کر رہے ہیں ۔ یہ سب دیکھنے کے بعد میں جناح روڈ کی جانب سے ہوتا ہوا اسٹیٹ بینک کی طرف سے ہزارہ ایریا کے اندر داخل ہو گیا کیونکہ میں نے وہاں سے ہوتے ہوئے گھر کی طرف جانا تھا۔ تو میں جب وہاں پہ پہنچا تو وہاں پاکستان کے قومی ترانے بج رہے تھے اور مختلف اسٹالز لگے ہوئے ہیں۔ ان ساٹالز پر چھوٹی چھوٹی بچیاں موجود ہیں ان کے چہرے پر پینٹنگ ہو رہی ہے پاکستان کے جھنڈے بنائے جا رہے ہیں جیسے عید کا سماں ہو۔ میں نے کہا بھی یہ کیا ہے یہ قوم اور وہ قوم، یہ عجیب قسم کے معاملات ہیں۔ لیکن یہ میرا خواب رہا ہے کہ ہم سب ایسے ہی نظم و خبط اور محبت کے ساتھ مل کر رہیں۔ یہ واقعہ جو میں بیان کرنے لگا ہوں پرسوں کی بات ہے میں فائرنگ رینج والے علاقے میں واک کر رہا تھا۔ پہاڑ کے دامن سے ہوتا ہوا میں جس وقت روڈ پر پہنچا تو رات کافی میں دیر ہو چکی تھی۔ اس وقت میں وہاں پر ایک رکشے والے کو دیکھ رہا تھا جس کے رکشے کا اگلا ٹائر سپیڈ بریکر سے گزر گیا جبکہ پچھلا ٹائر ایسے سمجھیں کہ تھوڑا سا واپس پیچھے کی جانب واپس آ گیا۔ اسی دوران پیچھے سے آنے والی گاڑی نے رکشے کو ہلکی سی ٹکر مار دی ۔ اسی دوران رکشے والے نے مجھے اشارہ کیا کہ بھائی ایک منٹ رکو میں رک گیا۔ تو اس نے ایسے گردن پہ ہاتھ رکھا مطلب شاید اسے گردن میں جھٹکا سا لگا تھا یا ایسے سمجھیں کہ ڈر گیا تھا۔ رکشے والے کی حالت دیکھ کر میں نے اس سے کہا کیا ہوا ہے، اگر زیادہ چوٹ لگی ہے تو چلو بھائی میں تمہیں ہسپتال لے چلتا ہوں۔ اسی دوران وہ گاڑی والا جس کے ساتھ فیملی بھی تھی اتر کر آ گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا بھائی چوٹ تو نہیں لگی یہ الفاظ جو میں ادا کر رہا ہوں بھائی والے تو باقاعدہ طور پہ بھائی والے الفاظ ادا کیے اس نے کہا کہ کیا ہوا تمہیں۔ اس نے کہا کہ ہمارا ماں کو تم نے ایسا کر دیا ہے اور بہن فلاں اور ماں فلاں، اور گالیوں کا ایک طوفان اس ہزارہ رکشے والے کے منہ سے جاری ہو گیا، تم کیا ہے، تمہارا ساتھ یہ ہے وہ اور رکشے والے نے فون ملانا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر بعد اس کی پہچان کے لوگ پہنچنا شروع ہو گئے اور میری وہ بوبخشی اور تشکر والا خاکہ خاک میں ملنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب یہاں پہ گاڑی کا ڈرائیور پٹھان تھا، وہ اس سے کہ رہا ہے، کہ مطلب جو ہواصوہ غلطی سے ہوا ہوگا یا لگ گیا ہوگا یا جو بھی ہے، آپ چلو میں آپ کو ہسپتال لے جاتا ہوں، آپ کا جو اگر نقصان ہوا ہے میں اسچکی تلافی کے لئیے تیار ہوں ۔ نقصان ایسا کچھ ایسا خاص ہوا بھی نہیں تھا، پچھلی ایک لائٹ تھی، ایسے وہ لمبی والی لائٹ جو ہوتی ہے وہ نیچے کی جانب لٹک گئی تھی، اسے واپس اوپر کر کے فٹ کیا جا سکتا تھا۔ جو طوفانِ بدتمیزی اس رکشے والے نے برپا کیا ناقابل بیان ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ہزارہ برادری کے افراد جمع ہونا شروع ہوئے۔ بس یہ ان سب کو فارسی میں بتا رہا تھا کہ ایسے ہوا، ویسے ہوا وغیرہ وغیرہ۔ جتنی مجھے فارسی کی سمجھ ا رہی تھی زیادہ تر جھوٹ ہی بول رہا تھا تو کیا یہ رکشے والا وہی انسان تھا جو ہمیشہ تشکر اور معزرت کے الفاز استعمال کرتا تھا ۔ مجھے ایک بار کسی بزرگ نے کہا تھا کہ اپنے اندر سے یہ ایک گِٹھ کا فاصلہ ختم کر دو، تمہاری زندگی بہترین ہو جائے گی۔ میں نے ان سے کہا کہ حضرت ایک گِٹھ کے فاصلے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ انہوں نے مجھے کہا کہ دل اور زبان کے بیچ ایک گِٹھ کا فاصلہ ہے۔ اس فاصلے کو نکال دو تمام معملات بہتر ہو جاہیں گے۔یعنی ظاہر اور باطن کو ایک کر دو۔ میں تو اس فاصلے کو ختم کرتے کرتے تھک چکا ہوں۔ کوشش بہت کر رہا ہوں۔ کئی جگہوں پہ میرے الفاظ کچھ اور ہوتے ہیں، لیکن دل کے اندر کچھ اور۔ تو وہ جو میں ایک گِٹھ کے فاصلے کی بات کر رہا تھا اس واقعے کا مشاہدہ کرنے کے بعد میں اب چودہ اگست کو بدتمیزی کرنے والوں اور اس رکشے والے کے روئیے کا موازنہ کر رہا تھا۔ میری نظر میں وہ 14 اگست کو بدتمیزی کرنے والے بہتر تھے وہ جو بدتمیزی کر رہے تھے، وہ بہتر تھے کیونکہ انہوں نے ایک گِٹھ کا فاصلہ اپنے اندر سے نکالا دیا تھا۔ ان کا اس وقت ایک ہی چہرہ تھا، بدتمیزی کر رہے تھے تو بدتمیزی ہی کر رہے تھے، اگر لڑ رہے تھے تو ایک ہی چہرہ تھا کہ لڑاکو ہیں۔ یہ جو واقع میں نے آپ سے بیان کیا، اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا، کہ اس رکشے والے نے ایسا رویہ کیوں اختیار کیا، ایسا کیا کہ آپ ایک جگہ پر ایک طرح کے ہو جبکہ دوسری جگہ پر کسی اور طرح کے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.