مسئلے کا حل چاہتے ہے تو حکومت کو عمران خان سے ہماری ملاقات کرانا ہوگی، بانی سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے: محمود خان اچکزئی

مسئلے کا حل چاہتے ہے تو حکومت کو عمران خان سے ہماری ملاقات کرانا ہوگی، بانی سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے: محمود خان اچکزئی
چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے ژوپ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ تمام سیاسی جماعتیں آئین کی بالادستی پر متفق ہوں، مسئلے کا حل چاہتے ہے تو حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات کرانا ہوگی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔محمود اچکزئی نے کہا چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم یا اسپیکر دفتر میں ملاقات نہیں ہوگی، اہم تقرری کے معاملے پر نواز شریف کے مری والے گھر میں بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔آپ میرے گھر پر حملے کرتے ہیں صرف اس لیے کہ میں اپنے وطن کو اپنے اصولوں کے مطابق چلانا چاہتا ہوں۔ میں اپنے بچوں اور اپنی زبان کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں جو میری اور میری قوم کی امانت ہیں۔ ​خوشحال خان خٹک فرماتے ہیں: "دستار باندھنے والے تو ہزاروں ہیں، مگر دستار کا پاس رکھنے والے گنے چنے ہیں۔" آپ میری دستار، میری زبان اور میری عزت پر حملہ کرتے ہیں اور پھر ہمیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں؟ یہ ہمیں ہرگز قبول نہیں! حقیقت میں آپ سے بڑا دہشت گرد کون ہے؟ ​چالیس سال سے انتخابات میں بندوق اور پیسے کے زور پر عوام کا حق چھینا گیا۔ کروڑوں انسانوں سے جیو اور جینے دو کا حق چھینا گیا، کیا یہ دہشت گردی نہیں؟ کیا میں دہشت گرد ہوں؟ نہیں، میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ ​خدا کی قسم! میرے پاس کوئی بکسے نہیں ہیں، دنیا کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں پشتون جاہل ہیں۔ ہمارے اندرونی مسائل اور تماشوں نے پاکستان کو توڑنے اور جوڑنے کے دو راہے پر کھڑا کر دیا ہے۔اس مسئلے کا حل عمران خان سے پوچھے اور ان سے ملاقات کیے بغیر ممکن نہیں۔ میرے اور شہباز شریف کے درمیان، یا تحریک تحفظ آئینِ پاکستان اور شہباز حکومت کے درمیان کوئی بھی مذاکرات عمران خان سے مشورے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔۔ ہم عمران خان سے ملیں گے، وہ جو بات کہیں گے ہم وہ آپ تک پہنچا دیں گے کہ عمران خان کا یہ موقف تھا. آپ نے عمران خان کو توڑنے کی جو کوشش کی، یہ ایک مجرمانہ فعل تھا۔ یہ تو خدا کی مہربانی اور اس شخص کی ہمت ہے کہ وہ نہیں ٹوٹا۔آپ واقعی تمام بحرانوں کا حل چاہتے ہیں تو اس کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں عمران خان سے ملنا ہوگا۔ہم عمران خان سے ملیں گے اور جہاں تک ممکن ہو سکا کوشش کریں گے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ جب عمران خان سے ہماری ملاقات ہوگی، تو ہم ان مذاکرات کو اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک کہ تمام فریقین کے لیے ایک باقاعدہ اور با عزت حل نہ نکل آئے۔ فوجیوں کے لیے بھی با عزت حل، سیاست دانوں کے لیے بھی، عمران خان کے لیے بھی اور ہم سب کے لیے بھی۔تمام سیاسی جماعتوں سے میری درخواست ہے، آئیں بسم اللہ کریں اور کم از کم نکات پر متفق ہو جائیں؛ پیپلز پارٹی، جماعتِ اسلامی، اے این پی، جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان کی تمام دیگر جماعتیں—اگر کسی کا نام رہ گیا ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔آئیں، اس بات پر متفق ہوں کہ پاکستان میں صرف آئین کی بالا دستی ہوگی۔ اس آئین کے تحت ایک آزاد الیکشن کمیشن بنے گا جو شفاف انتخابات کروائے گا۔ اس کے نتیجے میں جو پارلیمنٹ بنے گی، وہی تمام طاقت کا سرچشمہ ہوگی اور اندرونی و بیرونی پالیسیوں کے تمام فیصلے وہی کرے گی، اور ہر ادارہ اپنی آئینی حد میں رہے گا۔پاکستان زندہ باد! پاکستان ان شاء اللہ آگے بڑھے گا۔ تماشوں، پیسوں کے کھیل، لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کے جذبۂ حریت کو کچلنے سے پاکستان کی خدمت نہیں ہو سکتی۔ مذاکرات اور فیصلے چند افراد کے بند کمروں میں بیٹھ کر نہیں ہو سکتے، یہ ایک طویل کہانی ہے۔ اب شہباز شریف کہتے ہیں کہ وزیر اعظم ہاؤس میں آ کر بیٹھیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آئینی و قانونی حیثیت کے بغیر ایسے ہاؤس کا کوئی وجود نہیں۔ نہ ہی اسپیکر کی کوئی آزادانہ حیثیت باقی ہے بلکہ نظام میں یکطرفہ فیصلے اور زبردستی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں تمام اہم فیصلے مخصوص گھروں اور بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں۔اگر کسی کو یہ خام خیالی ہے کہ میں اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹ جاؤں گا، تو یہ ممکن نہیں۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے، اپنے ضمیر سے اور اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے۔ اگر میں نے دانستہ طور پر کوئی کمزوری دکھائی یا اپنے اصولوں پر سودے بازی کی، تو مجھے ایسی زندگی کی کوئی ضرورت نہیں۔عمران خان جیل میں قید ہیں پشتون روایت اور اخلاقی اصولوں کے تحت جب کوئی مدد کے لیے پکارتا ہے تو اس کی بات نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ اس کا ساتھ دیا جاتا ہے۔ میں اپوزیشن لیڈر ہوں اور میرا موقف بالکل واضح ہے کہ اگر پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہے تو تمام سیاسی قوتوں کو آئین کے دائرے میں رہ کر مل بیٹھنا ہوگا۔ عمران خان کے ساتھ جو زور زبردستی اور نا انصافی کی جا رہی ہے، وہ جرم اور گناہ ہے۔ ان پر سے ظلم کا خاتمہ ہونا چاہیے۔صحافیوں اور پاکستان کے تمام شہریوں کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان اس وقت شدید مشکلات اور بحران کا شکار ہے۔ پاکستان کسی بیرونی دشمن کے سبب نہیں بلکہ ہمارے اپنے اندرونی حالات، بے ایمانیوں اور سیاسی تماشوں کی وجہ سے خطرے میں پڑ چکا ہے۔ ہمارے اپنے غلط رویوں نے ملک کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بکھراؤ اور یکجہتی کے راستے جدا ہوتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے پر انگشت نمائی بند کریں اور ملک کی بقا کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔پاکستان میں عمران خان اچھا آدمی ہے یا برا آدمی ہے، تم نے اسے وزیر اعظم بنایا۔ پھر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائے۔ پھر عمران خان کی حکومت گرائی۔ لوگ ادھر ادھر گئے۔ پھر الیکشن ہوئے۔ اور اس شخص کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ پارٹی کا نشان چھین لیا۔ اسے جیل میں ڈال دیا۔ منصوبے بنائے۔ بندوق کے زور پر حکومت بنائی۔یہاں جو جنرل ذمہ دار تھا، وہ اب بھی زندہ ہے۔ یہاں جو ذمہ دار تھا، اس الیکشن میں، دو دن بعد، جب وہ گیا، تو اس نے 76 ارب روپے جہاز میں لے گیا۔ "پاکستان میں پہلا مارشل لاء لگا، پھر دوسرا، پھر تیسرا اور پھر چوتھا مارشل لاء لگایا گیا۔ پہلے مارشل لاء کے دوران سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے کچھ ججوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہم نے آئین کے دفاع اور قرآن کا حلف اٹھایا ہے، لہٰذا ہم جنرل ایوب کے غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے، جس کے بعد وہ اپنی نوکریوں سے دستبردار ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ میں نے نواز شریف سے بھی یہی کہا تھا کہ آج بھی اس ملک میں جو کوئی غیر آئینی بادشاہت بناتا ہے، قوم اور خدا کی طرف سے اس کی مخالفت ہونی چاہیے۔ جن ججوں نے ایوب خان، ضیاء الحق، پرویز مشرف یا کسی دوسرے آمر کی غیر آئینی حکومت کا ساتھ دیا، خدا کی قسم اگر میرے بس میں ہوا تو میں ان کی تصویریں عدالتوں سے باہر پھینک دوں گا۔ ان لوگوں کی تصاویر کا عدالتوں میں کوئی کام نہیں۔ جنہوں نے جمہوریت کے لیے جانیں دیں اور قربانیاں دیں، وہی ہمارے ہیرو ہیں۔ عمران خان اس وقت جیل میں ہیں، اللہ انہیں رہائی دے۔ میں نے اپنی پارٹی پر بھی یہ بات واضح کر دی ہے۔​شہباز شریف کی حکومت کے حوالے سے، الیکشن کمیشن کی تشکیل کا ایک آئینی طریقہ کار ہے جس میں اپوزیشن لیڈر اور حکومت کی مشاورت ضروری ہوتی ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم ہاؤس کے ساتھ ہمارے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ سپیکر بھی اس وقت غیر جانبدار نہیں ہیں۔ موجودہ غیر آئینی سیٹ اپ کے تحت کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی ۔ " اس جنگ کے ماحول میں جو میرا پہلا بچہ پیدا ہوا، اس کا نام ہم نے 'اٹل' رکھا۔ پھر تین بچیاں پیدا ہوئیں، یہ خیبر کے پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے جسے 'تاتارا' کہتے ہیں، جو جنگ کا مرکز رہا ہے جیسے ہمارا کشمیر کا مسئلہ ہے، میں نے بچی کا نام تاتارا رکھا۔ تیسرے بچے کا نام 'اصل' رکھا۔ پشتونوں میں بہادر اور غیور کو 'باتور' کہتے ہیں، تو ہم نے ایک کا نام باتور رکھا۔ پھر ایک بچا پیدا ہوا جس کا نام 'ازل' رکھا۔ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ایماندار و مخلص لوگ ہمارا ساتھ دیں جو بات پر قائم رہیں اور بات کو سمجھیں۔ ہم اب حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں اور حکومت سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.