کوئٹہ(پ ر)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے انجمن تاجران پنجگور کے سابق چیئرمین اور معروف تاجر حاجی سمیع اللہ بلوچ کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاجی سمیع اللہ بلوچ کا قتل ایک انتہائی دلخراش سانحہ، پنجگور کے عوام کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان اور معاشرے کے ایک فعال، مخلص اور انسان دوست فرد کا المناک بچھڑنا ہے۔ وہ محض ایک تاجر نہیں بلکہ سینکڑوں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ، غریب خاندانوں کے لیے معاشی سہارا اور ان لوگوں کے لیے مسیحا تھے جن کے گھروں کے چولہے ان کی محنت، کاروباری سرگرمیوں اور کاوشوں کی بدولت جل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ حاجی سمیع اللہ بلوچ جیسے لوگ معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں، جو اپنی محنت اور کاروباری صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا وسیلہ بھی بنتے ہیں۔ ان کا قتل صرف ان کے خاندان کو سوگوار چھوڑنے کا واقعہ نہیں بلکہ ان تمام محنت کشوں اور خاندانوں کے لیے بھی ایک بڑا صدمہ ہے جن کا روزگار ان سے وابستہ تھا۔ ایسے انسان کی جدائی سے پیدا ہونے والا خلا محض الفاظ سے پُر نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بالخصوص پنجگور میں بدامنی، قتل و غارت گری اور شہریوں کے عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ تاجر، محنت کش، کاروباری شخصیات اور عام شہری اگر اپنے ہی علاقے میں محفوظ نہیں تو یہ صورتحال حکومتی ذمہ داریوں اور امن و امان کے انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا کوئی احسان نہیں بلکہ اس کی بنیادی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے چاہییں۔انہوں نے کہا کہ حاجی سمیع اللہ بلوچ جیسے لوگوں کا قتل دراصل ان معاشی سہاروں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے جن کے بل بوتے پر غریب اور متوسط طبقے کے سینکڑوں خاندان عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ جو شخص دوسروں کے گھروں کے چولہے جلانے، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور معاشرے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ذریعہ ہو اس کا یوں قتل ہوجانا پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔ ایسے سانحات پر محض افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حاجی سمیع اللہ بلوچ کے قتل کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، واقعے میں ملوث ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے اور شہید کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین واقعے کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور عوام کا قانون و انصاف پر اعتماد بحال ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پنجگور اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے سنجیدہ، مستقل اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاجروں اور کاروباری طبقے کو تحفظ فراہم کیے بغیر معاشی سرگرمیوں کو فروغ اور عوام کو خوف کے ماحول سے نکالے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، لہٰذا اس ذمہ داری سے غفلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی دکھ اور آزمائش کی اس گھڑی میں حاجی سمیع اللہ بلوچ کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].