صورتحال خرابی کے باعث آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا بیک وقت استعمال کیا گیا،ایمرجنسی اور گورنر راج سے بچنے کے لیے گذشتہ رات پی ٹی آئی سے آخری رابطہ کیا، کوئی جواب نہیں آیا: اعظم نذیر تارڑ/محسن نقوی

صورتحال خرابی کے باعث آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا بیک وقت استعمال کیا گیا،ایمرجنسی اور گورنر راج سے بچنے کے لیے گذشتہ رات پی ٹی آئی سے آخری رابطہ کیا، کوئی جواب نہیں آیا: اعظم نذیر تارڑ/محسن نقوی
اسلام آباد(بی بی سی)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو درپیش صورتحال اتنی غیرمثالی تھی کہ وفاقی حکومت کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا بیک وقت استعمال کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم کے مشورے پر صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کیاہے۔ عام اصطلاح میں جب آرٹیکل 232 کے معاملات ہوتے ہیں تو ہم انھیں ایمرجنسی کہتے ہیں اور آرٹیکل 234 کو گورنر راج۔‘ ’مگر درپیش صورتحال اتنی سنگین تھی کہ آئین کے ان دونوں آرٹیکلز میں جو شقیں ہیں، حالات اس طرح کے تھے کہ آئین کے ان دونوں آرٹیکلز کی شقوں کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان ماضی میں بہت بڑی بڑی مشکلات سے گزرا ہے، مگر حالیہ صورتحال غیر مثالی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ صدراتی فرمان کے ذریعے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا گیا ہے اور گورنر خیبر پختونخوا کو وفاقی حکومت نے ذمہ داری دی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے اختیارات، جو آئین ایسی صورتحال میں انھیں تفویض کرتا ہے، وہ استعمال کریں۔ پاکستان کے وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال ’بہت خراب‘ ہے اور وفاقی حکومت نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ’صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے۔‘ اتوار کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاق نے گورنر کو صوبائی حکومت کے امور چلانے کا اختیار دے دیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تجویز کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ چار مرتبہ ڈرافٹ تیار کیے گئے اور آخری ڈرافٹ پر بھی تجاویز طلب کی گئیں۔ ان کے مطابق ڈرافٹ کے پیراگراف چار پر پی ٹی آئی کو اعتراضات تھے، جس پر حکومتی ٹیم نے ان سے متبادل سفارشات مانگی تھیں۔ محسن نقوی نے کہا ’کل رات پونے 12 بجے تک میرا پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ جو تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ بتا دیں، ہم اس پر بات کر لیتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا ’میں نے آخری کال پونے 12 بجے کی اور کہا کہ ابھی بھی موقع ہے کہ ہم اس صورتحال سے بچ سکتے ہیں، تاکہ صبح ہونے والے اقدام (ایمرجنسی اور گورنر راج) سے گریز کیا جا سکے۔‘ وزیر داخلہ کے مطابق حکومت مسلسل خیبر پختونخوا حکومت کو یہ بتاتی رہی کہ ’ہمیں دھرنے سے مسئلہ نہیں، ہمیں دہشت گردی سے مسئلہ ہے۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا مؤقف یہ تھا کہ اگر مذاکرات آگے بڑھانے ہیں تو دھرنا مؤخر کیا جائے۔ محسن نقوی، جو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ ’شام کے وقت لوگ گھروں سے بھی نہیں نکل سکتے۔‘ ان کے مطابق انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہونی چاہیے کیونکہ وہاں دہشت گردی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.