کوئٹہ(خ ن)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات کا فیصلہ کرتے ہوئے یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے محکموں کے انضمام اور غیر ضروری افرادی قوت میں کمی کے لیے جامع سفارشات طلب کرلی ہیں۔وزیر اعلی بلوچستان کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جن کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے سرکاری محکموں میں غیر ضروری بھرتیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل کی ایک ایک پائی قومی امانت ہے اور سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور عوام کو بہتر، مثر اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔وزیر اعلی نے کہا کہ صوبے کے وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے اور سرکاری محکموں کو بھرتیوں کی فیکٹریاں بنا دیا گیا ہے۔ ان کے بقول غیر ترقیاتی اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبے محکمے عوام کو مطلوبہ خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، جو افسوسناک صورتحال ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں گورننس کی خراب صورتحال کے ذمہ دار باہر سے آنے والے نہیں بلکہ اپنے ہی لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں کسی باہر سے آنے والے شخص کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں کا ہاتھ ہے۔وزیر اعلی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی بہتری کے لیے سخت مگر درست فیصلے کرنا ہوں گے اور اصلاحات کے لیے کڑے اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں اصلاحات کے لیے جامع سفارشات مرتب کریں تاکہ سرکاری امور میں بہتری، وسائل کے مثر استعمال اور عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس کل بھی جاری رہے گا، جس میں محکمہ جاتی اصلاحات سے متعلق نتیجہ خیز تجاویز مرتب کی جائیں گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].