ڈھاکہ (بی بی سی)بنگلہ دیش کے وزیرِ قانون محمد اسد الزمان نے کہا ہے کہ انڈیا سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ’مجرموں کی حوالگی کے معاہدے‘ کے تحت بنگلہ دیش واپس بھیجے۔
اُنھوں نے یہ بات اتوار کے روز دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں تربیتی ورکشاپ کے افتتاح کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہی۔
وزیر قانون نے کہا، ’ہم نے شیخ حسینہ کے معاملے میں قانونی طور پر ضروری تمام اقدامات، مقررہ ضابطے کے مطابق مکمل کر لیے ہیں۔ ان کے ساتھ قانون کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ جب ہم کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس میں جذبات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہم قانون پر عمل درآمد کریں گے۔ اگر ہم قانون پر درست طریقے سے عمل نہیں کرتے، تو آپ ہمیں بتا سکتے ہیں۔‘
جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا مقدمے کی کارروائی انڈین عدالتوں میں ہوگی، تو وزیر قانون نے کہا، ’یہ انڈین حکومت کا معاملہ ہے۔ ہم نے ان سے ’مجرموں کی حوالگی کے معاہدے‘ کے تحت درخواست کی ہے۔‘
اسد الزمان نے کہا، ’اگر وہ انھیں ہمارے حوالے کرتے ہیں، تو ہم قانون کے تقاضوں کے مطابق، مقررہ قانونی عمل کے ذریعے ہی آگے بڑھیں گے۔‘
جب صحافیوں نے پوچھا کہ اگر شیخ حسینہ انڈیا میں قیدی نہیں بلکہ ’سرکاری مہمان‘ (state guest) ہیں، تو انھیں ’قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے‘ کے تحت کیسے واپس لایا جائے گا؟ تو وزیر قانون نے کہا، ’میری نظر میں وہ ایک مجرم ہیں۔‘
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].