یورپی یونین کے تعاون سے بی آر ایس پی کا پائیدار ترقی کی جانب اہم قدم، بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ مالداری کے شعبے کی بحالی

یورپی یونین کے تعاون سے بی آر ایس پی کا پائیدار ترقی کی جانب اہم قدم، بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ مالداری کے شعبے کی بحالی
ژوب بلوچستان کی کثیر آبادی دیہی علاقوں میں آباد ہے، اور رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بیشتر لوگوں کا دارومدار بھی مالداری اور زراعت کے شعبوں پر ہے۔ بلوچستان کی دیہی آبادی کے لیے زراعت کے بعد مویشی ہی روزگار، خوراک اور معاشی تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود طویل رقبے پر پھیلے بلوچستان کے لوگ اب بھی غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ دوہزار بائیس کے تباہ کن سیلاب نے بلوچستان کے دیہی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ گھروں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے یا انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ہزاروں مویشی بھی سیلاب کی نذر ہوگئے، جس سے سینکڑوں خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش بری طرح متاثر ہوگیا۔ خاص طور پر شمالی بلوچستان کے ان اضلاع میں، جہاں بیشتر آبادی مالداری، پولٹری اور ڈیری پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔ ژوب سمیت بلوچستان کے چھ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) نے یورپی یونین اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے مالی تعاون اور محکمہ لائیو اسٹاک بلوچستان کے اشتراک سے ایک اہم منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ یہ پراجیکٹ ژوب، لورالائی، پشین، خضدار، لسبیلہ اور جعفرآباد کے ایک سو بیس یونین کونسلوں میں جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو وقتی امداد فراہم کرنا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل دیہی معیشت کی بنیاد بھی رکھنا ہے۔ ڈسٹرکٹ پروگرام مینیجر بی آر ایس پی قطب خان آفاقی کا کہنا ہے، کہ پراجیکٹ کا ایک اہم مقصد لائیو اسٹاک ویلیو چین کو مضبوط بنانا یعنی مالداری کے معاشی قدر میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ مالداروں کی عملی تربیت، ری اسٹاکنگ، اور معاشی خدمات تک رسائی منصوبے کے اہم اہداف ہیں۔ " پراجکیٹ کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، مالداری پر منحصر دیہی معیشت کو مضبوط بنانا، ڈیری شعبے میں بہتری لانا، خواتین اور نوجوانوں کی شرکت میں اضافہ، مالیاتی سہولیات تک رسائی دینا اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور پائیدار مالداری نظام کا قیام شامل ہیں۔" اس پراجیکیٹ کے تحت بارہ سو لائیو اسٹاک گروپس اور ایک ہزار سے زائد پروڈیوسر گروپس تشکیل دیے جا رہے ہیں تاکہ مالداروں کو پیداوار، مارکیٹ تک رسائی اور بہتر قیمتوں کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔ علاوہ ازین لائیو اسٹاک مارکیٹس یا مویشی منڈیاں بھی قائم کی جائیں گی، جبکہ چوبیس چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو میچنگ گرانٹس دی جارہی ہیں۔ پراجیکٹ کے تحت دس ہزار مستحق خاندانوں کو مویشی فراہم کیے جارہے ہیں، جبکہ چھ ہزار پانچ سو افراد کو کمیونٹی لائیولی ہڈ فنڈ کے توسط سے مالی معاونت دی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً چھ سو ولیج آرگنائزیشنز اور پروڈیوسر گروپس بھی براہ راست اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ مختلف سلاٹر ہاؤسز یا مذبح خانوں کی مرمت اور سہولیات کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ قطب خان آفاقی کے مطابق محکمہ جنگلات کے تعاون سے رینج لینڈ کی نشاندہی کی جارہی ہے، تاکہ شجرکاری کرکے مویشیوں کے لیے چراگاہوں کو بہتر بنایا جا سکے اور پائیدار مالداری کو فروغ دیا جا سکے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.