کوئٹہ (خ ن)گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اگر صوبے کی واحد وویمن یونیورسٹی کے طور اس کو نمبرون ترجیح دی جا رہی ہے تو پھر آپ بھی اپنی بہترین کارکردگی سے نمبرون بن کر دکھائیں۔ ہمارا عزم ہے کہ اس یونیورسٹی کو مزید بہتر بنا کر پورے ملک کی ماڈل یونیورسٹی بنائینگے۔ اپنے چالیس سالہ سیاسی کیریئر کے تجربے کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایوارڈ دینے سے زیادہ اہم کام اس حقدار کا درست انتخاب ہے جو واقعی اس اعزاز کا مستحق ہو کیونکہ اگر حقدار کی پہچان درست نہ ہو تو ایوارڈ اور ایوارڈ دینے والے دونوں کی قدر اور اعتبار کم ہو جاتا ہے۔ گویا ہر قسم کی اقربا پروری سے پاک میرٹ کی پاسداری، دیانتداری اور غیرجانبداری ہی کسی اعزاز کو حقیقی وقار عطا کرتی ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وویمن یونیورسٹی کی تقریبِ تقسیمِ ایوارڈز میں ریسرچرز، فیکلٹی ممبرز اور ایڈمنسٹرشن آفیسرز کو بیسٹ پرفارمینس ایوارڈ سے نوازتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر زینب بی بی اور پرنسپل سیکرٹری عبدالناصر دوتانی سمیت فیکلٹی ممبرز اور طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب تقسیم ایوارڈز کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جس معاشرے میں محنت اور خدمت کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، وہاں اہلیت اور قابلیت کو فروغ ملتا ہے اور مایوسی کی جگہ امید جنم لیتی ہے۔آج کی اس پروقار تقریب کا یہی پیغام ہے کہ محنت، خدمت اور انسانی ضروریات سے ہم آہنگ تحقیق کی قدر کی جاتی ہے۔ اسطرح ایک فرد کی کامیابی پورے ادارے کیلئے نئی تحریک بن جاتی ہے۔ موجودہ حکومت بھی اپنی کارکردگی میں شفافیت لا کر اور میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنا کر ہی صوبے بھر کے نوجوانوں کا پورا اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ بلا تفریق کسی دوسرے شخص کی غیرمعمولی محنت، خدمت اور قابلیت کو تسلیم کرنا بذاتِ خود ایک سماجی خدمت ہے۔ ایوارڈ دینا محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ان لوگوں کی جدوجہد کو معاشرے کے سامنے اجاگر کرنا ہے جن کی خدمات اور تخلیقات اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو معاشرہ اپنے محسنوں کی قدر کرتا ہے وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی نہ تو اپنے اور اپنے خاندان کو معاشی طور پر آسودہ زندگی فراہم کرنے کا نام ہے اور نہ ہی صرف اپنی منزل حاصل کرنے کا نام ہے۔ اصل کامیابی سماج کو جہالت، پسماندگی اور استحصال سے نجات دلانے، ماتحتوں کے حقوق و اختیارات کی پاسداری کو یقینی بنانے اور زیردست طبقے کیلئے آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرنے کا نام ہے۔ ایک بہترین استاد وہ نہیں جو صرف خود وسیع علم رکھتا ہو بلکہ وہ ہے جو اپنے طلبہ میں تحقیق، جستجو، تنقیدی اور تخلیقی سوچ کو پروان چڑھائے۔ اسی طرح ایک کامیاب ریسرچر کی اصل اہمیت اس کے کام کے معاشرے پر مثبت و تعمیری اثرات سے متعین ہوتی ہے لہذا میں یہاں موجود تمام ریسرچرز کو یہی کہوں گا کہ وہ صرف تحقیقی مقالوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے درپیش انسانی چیلنجوں کا پائیدار حل تلاش کریں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جب کسی ٹیچر ، ریسرچر یا اسکالر کی محنت کو بروقت سراہا جاتا ہے تو یہ صرف اس کے ماضی کی کامیابی کا اعتراف نہیں ہوتا بلکہ اس کی مستقبل کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ آج دیا جانے والا ایک باوقار ایوارڈ کل کسی نئی تحقیق، ایجاد یا سماجی تبدیلی کا محرک بن سکتا ہے۔ اسلیے ایوارڈز کو سفر زندگی کے اختتام کے بجائے اپنی نئی ذمہ داری اور نئی کامیابی کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان نے بیسٹ پرفارمینس ایوارڈز تقسیم کیے اور لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].