بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز اسپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن(ر)عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان، ڈینگی کی صورتحال، کوئٹہ میں نجی ٹی وی چینلز کے بیوروز کی بندش ، خواتین کی صحت اور اقلیتوں کے حقوق سمیت مختلف اہم عوامی مسائل سے متعلق توجہ دلائو نوٹسز اور دو موخر شدہ قراردادیں پیش کی گئی۔اجلاس کے دوران وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شیخ زاید ہسپتال سے مشینری کی منتقلی کا عمل روک دیا گیا ہے اور مشینری ہسپتال میں موجود ہے۔ انہوں نے صحافیوں کی نجی ٹی وی چینلز سے برطرفیوں کو سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے صحافیوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی اور اس حوالے سے وفاقی وزارت اطلاعات سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے سر کا تاج ہے اور حکومت صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ وہ حق دو تحریک کے پلیٹ فارم سے گوادر کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے اسمبلی کی سیاسی تنوع کو جمہوری حسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا ایک رکن حکومت اور دوسرا اپوزیشن کا حصہ ہے۔رکن اسمبلی زابد علی ریکی نے دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے لواحقین کو ملازمت دینے سے متعلق توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری مجید بادینی نے بتایا کہ 2024 میں وفات پانے والے ملازمین کے لواحقین کو تعینات کیا جائے گا۔ اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے شفاف بھرتیوں پر بھی زور دیا جبکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ہر علاقے میں پبلک سروس کمیشن کے دفاتر قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ایوان میں مکران ڈویژن، تربت، گوادر اور پنجگور میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ڈینگی کیسز کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ حکومتی رکن زرین مگسی نے بتایا کہ ڈینگی سے متعلق آگاہی مہم اور ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے، جس کے بعد توجہ دلا نوٹس نمٹا دیا گیا۔اجلاس میں خواتین کی صحت اور مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا پر ٹیکس خاتمے سے متعلق مشترکہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان میں 89 فیصد خواتین اور لڑکیاں حفظانِ صحت کی بنیادی مصنوعات تک رسائی سے محروم ہیں۔ اراکین اسمبلی شاہدہ روف، راحیلہ درانی، مینہ مجید اور غزالہ گولہ نے خواتین کی صحت کے حوالے سے مثر حکومتی اقدامات، آگاہی مہم اور سینیٹری مصنوعات پر ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کیا۔اسی طرح مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قرارداد بھی ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد میں اقلیتی برادری کو تعلیم، روزگار، مذہبی آزادی اور سیاسی نمائندگی میں مساوی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے این 25 اور ایم 8 شاہراہوں کی خستہ حالی، خاران میں بڑھتی چوری و ڈکیتی کی وارداتوں، گوادر میں مزدوروں کے قتل اور امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے این ایچ اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے متعلقہ حکام کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ زابد علی ریکی نے خاران میں عوام کے جان و مال کے تحفظ پر تشویش ظاہر کی۔صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ حکومت صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور نئے تھانوں کے قیام سمیت سیکیورٹی ادارے سرگرم عمل ہیں۔بعد ازاں گوادر میں مزدوروں کے قتل کے خلاف اپوزیشن نے احتجاجا واک آٹ کیا جبکہ کورم کی نشاندہی پر اجلاس 14 مئی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].