ایران جنگ کا روس کو فائدہ، اپریل میں تیل کی آمدن میں اضافہ

ایران جنگ کا روس کو فائدہ، اپریل میں تیل کی آمدن میں اضافہ
بی بی سی کے مطابق روسی کاروباری روزنامہ کومرسانت نے 6 مئی کو وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اپریل 2026 میں روس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن میں 39 فیصد اضافہ ہوا۔ کومرسانت کے مطابق یہ پہلا ماہانہ اضافہ ہے جو ایران جنگ کے باعث دیکھا گیا اور اس نے مزید کہا کہ مارچ میں یورالز کروڈ کی قیمت 77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ’ٹیکس ادائیگیاں ایک ماہ کی تاخیر سے کی جاتی ہیں۔‘ امید ہے کہ مئی میں اضافی آمدن مزید بڑھے گی، کیونکہ اپریل میں روسی تیل کی اوسط قیمت 94.9 ڈالر فی بیرل رہی۔ مئی میں ادا کیے جانے والے تیل و گیس ٹیکس اسی بنیاد پر شمار کیے جائیں گے، تاہم اس میں اضافی آمدن پر ٹیکس (NDD) شامل نہیں ہوگا، جو تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں سال میں صرف چار بار ادا کرتی ہیں۔ کومرسانت کے مطابق، 2026 کے پہلے چار مہینوں میں 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں روس کی تیل و گیس آمدن میں مجموعی کمی برقرار ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ ’تیزی سے کم‘ ہو جائے گی۔ مارچ اور اپریل دونوں میں اوسط قیمت 2026 کے بجٹ میں مقرر کردہ 59 ڈالر فی بیرل سے نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ اقتصادی ترقی کی وزارت کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق، پہلے چار مہینوں میں یورالز کروڈ کی اوسط قیمت بھی اس سطح سے زیادہ، یعنی 64.4 ڈالر فی بیرل رہی۔ کومرسانت نے کہا کہ سال بہ سال موازنہ میں، ’صورتِ حال اتنی بہتر نہیں لگتی‘۔ جنوری سے اپریل 2026 کے دوران روس کی تیل و گیس آمدن (2,298 ارب روبل) 2025 کے اسی عرصے (3,727 ارب روبل) کے مقابلے میں 38 فیصد کم رہی۔ تاہم، توقع ہے کہ یہ فرق کم ہو جائے گا، کیونکہ گزشتہ سال اپریل سے تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئی تھیں اور دسمبر میں 39.2 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ اس لیے سال بہ سال موازنہ کی بنیاد مزید کم ہوتی جائے گی۔ تاہم، کومرسانت نے خبردار کیا کہ ’بجٹ کی آمدن صرف قیمتوں پر نہیں بلکہ تیل کی پیداوار اور برآمدی فراہمی کی مقدار پر بھی منحصر ہوتی ہے، جو یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث ریفائنریوں اور روسی بندرگاہی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان سے متاثر ہو سکتی ہیں‘۔ اس وقت، روسی بندرگاہوں کو نقصان پہنچنے کے باعث سپلائی میں کمی کے بعد، برآمدات کی صورتحال دوبارہ معمول پر آ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، مارچ میں روسی پیداوار میں کمی نہیں آئی بلکہ یہ فروری کے 8.67 ملین بیرل یومیہ سے بڑھ کر 8.96 ملین بیرل یومیہ ہو گئی۔ کومرسانت کے مطابق، ایک اور عنصر جو حتمی آمدن کو متاثر کر سکتا ہے وہ روبل کی شرحِ مبادلہ ہے، جو تیل و گیس کے بنیادی ٹیکس یعنی معدنی وسائل نکالنے کے ٹیکس (NDPI) کے حساب کے فارمولے میں شامل ہے۔ جب روبل مضبوط ہوتا ہے تو آمدن کم ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے وزارتِ خزانہ نے ’مارکیٹ کو حیران کر دیا۔‘ 23 اپریل کو وزارت نے اعلان کیا کہ دو ماہ کے وقفے کے بعد مقامی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے بجٹ اصول کو دوبارہ نافذ کیا جائے گا، کیونکہ اضافی آمدن نے اب قومی فلاحی فنڈ کے ذخائر کو استعمال کرنے کے بجائے انھیں دوبارہ بھرنے کی اجازت دے دی ہے۔ 6 مئی کو وزارت نے آئندہ ماہ کے لیے ان کارروائیوں کا حجم بتایا۔ تجزیہ کاروں کی توقعات کے برعکس، جنہوں نے یوان کے ذخائر کی خریداری کے لیے 10 سے 20 ارب روبل روزانہ کا اندازہ لگایا تھا، 8 مئی سے 4 جون تک اصل حجم صرف 5.8 ارب روبل یومیہ ہوگا۔ مرکزی بینک کی فروخت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جو اپنے نیم سالہ منصوبے کے تحت بجٹ اصول سے باہر کرنسی فروخت کر رہا ہے، ماسکو ایکسچینج پر ریگولیٹرز کی خالص خریداری صرف 1.2 ارب روبل یومیہ ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق، ’اتنی کم خریداری کا حجم ممکنہ طور پر قومی کرنسی کی قدر میں متوقع کمی کا سبب نہیں بنے گا۔ اس کے نتیجے میں روبل نے وزارتِ خزانہ کے اعلان پر مضبوط ردعمل دیا اور یوان کے مقابلے میں 1.5 فیصد مضبوط ہو گیا۔ ماسکو ایکسچینج کے مرکزی سیشن کے اختتام تک یوان کی قیمت 10.94 روبل تک گر گئی۔‘ وزارتِ خزانہ نے خریداری کی مقدار پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’مارچ اور اپریل 2026 کے التوا شدہ لین دین کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ حساب کیا گیا ہے۔ 2026 کے لیے پیش گوئیوں کے حوالے سے، ’تجزیہ کار متفق ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی کے پیش نظر، اجناس کی منڈیوں میں روس کے لیے سازگار حالات کافی عرصے تک برقرار رہیں گے، جس سے توقع ہے کہ وزارتِ خزانہ کم از کم تیل و گیس آمدن کے سالانہ بجٹ ہدف 8,900 ارب روبل کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔‘

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.