حکومت بلوچستان نے مون سون کنٹی جنسی پلان 2026 کی منظوری دیدی، ممکنہ قدرتی آفات، ہیٹ ویوودیگر سے متعلق حکمت عملی تیار

حکومت بلوچستان نے مون سون کنٹی جنسی پلان 2026 کی منظوری دیدی، ممکنہ قدرتی آفات، ہیٹ ویوودیگر سے متعلق حکمت عملی تیار
حکومت بلوچستان نے مون سون کنٹی جنسی پلان 2026 کی منظوری دیتے ہوئے ممکنہ قدرتی آفات، ہیٹ ویو، سیلابی صورتحال اور غیر معمولی موسمی خطرات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔یہ فیصلہ پیر کے روزوزیر اعلیٰ بلوچستان میرسرفرازاحمد بگٹی کی زیر صدارت پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری ،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں، متوقع بارشوں، سیلابی صورتحال، ہیٹ ویو اور ممکنہ ہیٹ برسٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں، بارشوں، سیلابی صورتحال، ہیٹ ویو اور ممکنہ ہیٹ برسٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ رواں سال بلوچستان میں درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے جبکہ کلاوڈ برسٹ کے بعد ہیٹ برسٹ جیسے غیر معمولی موسمی خطرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 7 ہزار 500 ملین روپے کی منظوری دی گئی جبکہ ریسکیو، ریلیف اور بحالی سرگرمیوں کیلئے وسائل کی فراہمی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔کمیشن نے بلوچستان بھر کے تمام اضلاع میں 1122 ریسکیو سینٹرز فعال کرنے اور دوسرے مرحلے میں تحصیل سطح پر بھی ریسکیو مراکز قائم کرنے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ڈویژنل اور ضلعی سطح پر پی ڈی ایم اے دفاتر کو فعال رکھنے، مشینری، ریسکیو آلات، خیمے، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خطرات کے پیش نظر اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک ایمرجنسی نافذ کرنے، ادویات، طبی عملے اور ایمبولینسز کی دستیابی یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں عوامی آگاہی مہم شروع کرنے، ٹھنڈے پانی اور سایہ دار مقامات کی فراہمی یقینی بنانے اور تعلیمی اداروں، مساجد، میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے احتیاطی تدابیر عام کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر معمولی موسمی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حساس اضلاع میں نکاسی آب، ریسکیو مشینری، امدادی سامان اور ہیٹ ویو ریلیف پوائنٹس ہر صورت فعال رکھے جائیں۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور موسمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم، مثر رابطہ کاری اور بروقت ریسپانس ناگزیر ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.