بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان کے موجودہ بجٹ میں تقریباً تمام سماجی شعبے نظرانداز کر دیے گئے ہیں، مگر سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صوبے کے ہزاروں معذور افراد کے لیے کوئی نئی سہولت، مالی ریلیف یا ایسا اقدام شامل نہیں کیا گیا جو ان کی انسانی عظمت (Human Dignity) اور باعزت زندگی کے حق کو یقینی بنا سکے۔یہ معاملہ صرف فلاح و بہبود کا نہیں بلکہ انسانی حقوق، سماجی انصاف اور ریاستی ذمہ داری کا ہے۔بطور رکن بلوچستان اسمبلی، میں نے معذور افراد کے لیے ماہانہ سماجی معاونت (Social Support Allowance) اور برقی ویل چیئرز سمیت ضروری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی تھی، جسے بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ یہ قرارداد "Social Support for Persons with Disabilities" کے عنوان سے منظور ہوئی تھی۔ قرارداد کا بنیادی مقصد معذور افراد کو مستقل مالی معاونت فراہم کرنا اور انہیں معاشرے کا باعزت اور فعال حصہ بنانا تھا۔اسمبلی کی مدت کے آخری دنوں میں اس قرارداد پر عملدرآمد کی ابتدائی کوششیں بھی ہوئیں، لیکن بدقسمتی سے حکومتی ترجیحات میں معذور افراد کبھی سنجیدگی سے شامل نہیں رہے۔آج بھی میری یہ پُرزور مطالبہ ہے کہ • بلوچستان کے تمام رجسٹرڈ معذور افراد کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے؛
• تمام مستحق معذور افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے؛
• صحت، تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت کی سہولیات تک ان کی رسائی یقینی بنائی جائے؛
• بلوچستان پرسنز وِد ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2017 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کے کمزور ترین شہریوں کے ساتھ اس کے رویے سے ہوتی ہے۔ معذور افراد خیرات نہیں، حقوق مانگ رہے ہیں؛ ہمدردی نہیں، مساوی مواقع مانگ رہے ہیں۔
اگر بجٹ میں ان کے لیے جگہ نہیں، تو پھر ہماری ترقی اور ترجیحات دونوں پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].