کوئٹہ(اے پی پی)ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے کہا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں کرتے ہوئے ڈکیتیوں، قتل، اغوا برائے تاوان اور اسٹریٹ کرائم سمیت سنگین جرائم میں ملوث متعدد ملزمان کو گرفتار کیا ہے جبکہ پولیس کی مسلسل کوششوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی تعاون کے باعث رواں سال اگست، ستمبر اور اکتوبر کے دوران گزشتہ سالوں کے مقابلے میں جرائم کی شرح میں تقریبا 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی آپریشن ضیا ء مندوخیل ،ایس ایس پی ٹریفک دوستین دشتی،دیگر پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے بتایا کہ گزشتہ ماہ اگست اور ستمبر کے دوران شہریوں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ کوئٹہ میں ایک منظم ڈکیت گروہ سرگرم ہے جس میں سات سے آٹھ افراد شامل ہیں اور ایک خاتون بھی اس گروہ کا حصہ ہے۔
مذکورہ گروہ خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ظاہر کرکے گھروں میں داخل ہوتا تھا۔ ملزمان کے پاس پولیس یونیفارم، واکی ٹاکی سیٹس اور دیگر متعلقہ سامان بھی موجود تھا جبکہ گروہ کی خاتون رکن بھی خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس گروہ نے چار سے پانچ بڑی وارداتیں کی تھیں جس پر مقدمہ درج کرکے تفتیش اسپیشل انویسٹی گیشن ونگ (SIW) کے حوالے کی گئی۔
تفتیشی ٹیم نے تکنیکی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور بالآخر پورے گروہ کو بے نقاب کرکے پانچ ملزمان کو گرفتار کرلیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان میں ایک پولیس کانسٹیبل اور دوسرے شہر سے تعلق رکھنے والا ایک اہلکار بھی شامل تھا۔ کارروائی کے دوران 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ریکوری کی گئی جس کے بعد اس منظم گروہ کو غیر موثر بنادیا گیا،ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہاشم نورزئی قتل کیس میں بھی پولیس نے جدید تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا۔
کیس کا ایک اہم ملزم سعداللہ نوروزئی ضمانت حاصل کرنے کے بعد مختلف طریقوں سے روپوش تھا، تاہم پولیس نے اسے بھی دوبارہ گرفتار کرلیا جبکہ قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کرلی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش میں پولیس کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے علی شاہ قتل کیس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سبزل روڈ پر ایک بچے کی بوری بند لاش ملنے کے واقعے کی تفتیش میں پولیس نے بھرپور محنت کی، ڈی این اے سیمپل حاصل کرکے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے، جس کے نتیجے میں بچے کی چچی مبینہ طور پر قتل میں ملوث پائی گئی جسے گرفتار کرکے قانون کے حوالے کردیا گیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ نے مزید بتایا کہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ٹیم کو اغوا برائے تاوان کے دو مقدمات بھی حوالے کیے گئے تھے، جن میں مقدمہ نمبر 149 اور تھانہ سٹی کا مقدمہ نمبر 101 شامل ہیں۔ پولیس نے دونوں مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا کر ان کے اہل خانہ کے حوالے کردیا۔انہوں نے کہا کہ رواں سال کوئٹہ پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران تقریبا 150سے زائد پولیس مقابلوں میں حصہ لیاجن میں 27سے زائد جرائم پیشہ افراد ہلاک، 9پولیس اہلکارزخمی ہوئے127 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے۔
ان کارروائیوں کے دوران پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کامیابیاں کسی ایک افسر کی نہیں بلکہ پوری پولیس ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہیں۔عمران شوکت نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں رواں سال اگست، ستمبر اور اکتوبر کے دوران، جب عموما جرائم کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، کوئٹہ میں جرائم کی شرح میں تقریبا 30 فیصد کمی آئی ہے۔
اس سلسلے میں پولیس نے تاجر برادری اور شہریوں کو بھی اعتماد میں لیا جنہوں نے مختلف علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے میں تعاون کیا۔ ان کیمروں کی مدد سے سنگین جرائم کی تفتیش، ملزمان کی شناخت اور وارداتوں کے سراغ لگانے میں نمایاں مدد ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سیف سٹی منصوبہ بھی جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سیف سٹی کی جانب سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی جاتی ہے جس پر پولیس ٹیمیں بروقت کارروائی کرتی ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سرپرستی میں سیف سٹی منصوبے کی پیش رفت اور متعلقہ حکام کی نگرانی سے پولیس کو جدید تکنیکی معاونت میسر آرہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ڈی آئی جی نے کہا کہ کوئٹہ میں مربوط سیکیورٹی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جن کے تحت پولیس کے لیے مزید عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جدید آلات، گاڑیاں، اسلحہ اور ایمونیشن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس میں مزید بھرتیاں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔
انہوں نے یوم آزادی کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ تقریبا 13 سال کے دوران 13 اور 14 اگست کے موقع پر کوئٹہ میں پاکستانی پرچم فروخت کرنے والے مقامات اور دیگر علاقوں میں ہینڈ گرنیڈ حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم رواں سال 13 سال بعد ایسا اگست گزرا جس میں کوئٹہ میں ایک بھی ہینڈ گرنیڈ حملہ نہیں ہوا۔ انہوں نے اس کامیابی کو پولیس، ایف سی، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
عمران شوکت نے کہا کہ کوئٹہ پولیس دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے، مشتبہ عناصر کی گرفتاری اور انٹیلی جنس بیسڈ سرچ آپریشنز میں مصروف عمل ہے جبکہ سی ٹی ڈی بلوچستان بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے شہریوں، بالخصوص بلوچ، پشتون اور دیگر تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے سیکیورٹی اقدامات، ناکہ بندی، اسنیپ چیکنگ اور ٹریفک کی عارضی روانی متاثر ہونے کے باوجود پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔
شہریوں کی جانب سے مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دینے سے جرائم پیشہ عناصر اور مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیوں میں مدد ملی ہے۔ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ کوئٹہ پولیس عوام کی خدمت اور تحفظ کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ پولیس تنقید اور مثبت تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے اور میڈیا سمیت تمام شہریوں کے لیے دستیاب ہے تاکہ جہاں کہیں بہتری کی گنجائش ہو اسے دور کیا جاسکے۔پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے مختلف سوالات بھی کیے، جن میں سریاب کے علاقے میں موٹرسائیکل چھیننے کی واردات کے دوران لانی اور اس کے بھائی کے قتل کا واقعہ بھی شامل تھا، جس پر پولیس حکام سے مزید تفصیلات طلب کی گئیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].