ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، انتظامی ردعمل اور عوامی صحت کا بحران: سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز کی بندش قابلِ تشویش صورتحال

ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، انتظامی ردعمل اور عوامی صحت کا بحران: سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز کی بندش قابلِ تشویش صورتحال
کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کا افسوسناک واقعہ نہ صرف طبی برادری کے لیے صدمہ ہے بلکہ صوبے میں قانون و امن کی صورتحال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بروقت کارروائی اور ایک گھنٹے کے اندر ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانا قابلِ تحسین ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فعالیت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح حکومت بلوچستان نے ابتدائی طبی امداد کے بعد متاثرہ ڈاکٹر کو کراچی اور بعد ازاں بیرون ملک علاج کی منظوری دے کر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس پورے عمل میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سیکرٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی اور سول ہسپتال کوئٹہ کے ایم ایس ڈاکٹر ہادی کاکڑ کی نگرانی اور فوری اقدامات بھی قابل ذکر ہیں، جنہوں نے مریضہ کی منتقلی تک انتظامی تسلسل برقرار رکھا۔ تاہم دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے او پی ڈیز اور ایمرجنسی کے علاوہ سروسز کا بائیکاٹ عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اس احتجاج کا براہِ راست اثر غریب مریضوں پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی محدود سہولیات کے باعث سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک طرف انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فعال نظر آتے ہیں، مگر دوسری طرف صحت کا نظام احتجاج اور انتظامی خلا کے باعث مفلوج ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹرز کے تحفظ، تنخواہوں اور سہولیات کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، جبکہ عوامی سروسز کو احتجاج کی زد سے نکالنے کے لیے ایک مؤثر مکالمہ اور پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.