تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزى سے آزاد جموں و کشمیر کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد، چیئرپرسن جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی نے کی، جبکہ سردار عبدالماجد سردار اشتیاق میں سول سوسائٹی اور ہیومن رائٹس کونسل کے نمائندے محمد شفیق فاروقی شائستہ عبدُاللّہ گلزارجُنید احمدایڈووکیٹ ذوفشاں ایڈووکیٹ عثمان نزیر عمران جہانگیر کیانی بھی وفد میں شامل تھے۔ ملاقات میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ترجمان تحریک تخفظ آئین پاکستان اخوانزادہ حسین خان یوسفزئی ممبر قونی اسمبلی شہرام خان ترکئی اور ممبر قومی اسمبلی عاطف خان بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی، سماجی اور انسانی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد نے قائدِ حزبِ اختلاف کو موجودہ بحران کے پس منظر، عوامی تحفظات اور مختلف فریقین کے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ حالات مسلسل کشیدگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔اس موقع پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے مسئلۂ کشمیر اور جمہوری و قومی حقوق کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، لہٰذا موجودہ صورتحال کا حل تحمل، بردباری، سیاسی بصیرت اور باہمی احترام کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں، حکومتی نمائندوں اور عوامی قیادت پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہوں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تعطل کے خاتمے اور بامقصد مذاکرات کے آغاز کے لیے فوری اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس مقصد کے لیے 5 جون سے قبل کی صورتحال (Status Quo Ante) کی بحالی، عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف عائد فورتھ شیڈول سمیت غیر معمولی پابندیوں کے خاتمے، اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔محمود خان اچکزئی نے عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ 23 جون کے اعلان کردہ لانگ مارچ پر نظرثانی کرے اور تمام فریقین ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جن سے تصادم کا خطرہ پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ خصوصاً محرم الحرام اور یومِ عاشورہ کے تقدس کے پیشِ نظر کسی بھی جانب سے طاقت کے استعمال، کریک ڈاؤن یا تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اور عوامی نوعیت کے مسائل کا حل طاقت یا انتظامی اقدامات میں نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات، باہمی اعتماد اور عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔ حکومت، عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تاکہ ایک پائیدار، پرامن اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔قائدِ حزبِ اختلاف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خوراک، ادویات، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ملاقات کے اختتام پر محمود خان اچکزئی نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افہام و تفہیم، مذاکرات اور جمہوری اصولوں کی بنیاد پر موجودہ بحران کا پرامن حل نکالیں گے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].