اسلام آباد(بی بی سی)پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو تھری ایم پی او کے تحت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماوٖں اور کارکنوں کے گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا۔
جمعرات کے روز وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے میں فریقوں کو نوٹسز جاری کررہے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دیگر فریقین عدالتی حکم دیکھ کر اپنی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔
دورانِ سماعت ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی کاروائیوں کے علاقہ میں ہائی کورٹ مداخلت نہیں کرسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کا استعمال نہیں کرسکتی۔
بینچ میں شامل جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ ہائی کورٹ میں تو روازنہ 199 کے کئی مقدمات آتے ہیں، کیا ہائیکورٹ روازنہ کی بنیاد پر آنے والے مقدمات کو نہیں سنے گی؟
دوران سماعت فریقین کے وکیل کی جانب سے سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس پیش ہوئے جنھوں نے عدالتی حکم پر اعتراض کیا۔
شاہ فیصل الیاس کا کہنا تھا کہ عدالت حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے ہمیں سن لے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کا کہنا تھا آپ ہمارا حکم پڑھ کر اپنے اعتراضات دائر کر دیں۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے عبوری احکامات میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکا تھا جسے صوبائی حکومت نے آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے مختلف بینچز کے چیلنج کئے گئے احکامات کو بھی معطل کردیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
تھری ایم پی او کیا ہے؟
تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کو حفاظتی حراست میں رکھنے کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے، جنھیں عوامی تحفظ یا امن و امان کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ قانون ایک طے شدہ مدت کے لیے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراست کے لیے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان میں پہلے بھی عوامی احتجاج یا سیاسی جماعتوں کے جلسوں سے قبل سیاسی رہنماؤں کو نظربند کیا جاتا رہا ہے۔
تھری ایم پی او کے قانون کے مطابق متاثرہ شخص اس فیصلے کو صوبائی حکومت کے سامنے چیلنج کر سکتا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].