اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے والے ہیں، اب اپنی ٹون بدلنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے ایوان چلاتے ہوئے آئین و قانون کا خیال نہیں رکھا اور چابک دستی سے 14 ارکان کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل کے 70 سال سے زائد عمر کے قیدیوں کو سزائیں دی گئیں، پانچ افراد کو مجموعی طور پر 286 سال قید کی سزا سنائی گئی اور ماہ رنگ بلوچ کو بھی عمر بھر کی جیل دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین روندنے میں غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا گیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کشمیری چیخ رہے ہیں کہ ان کے پاس آٹا اور بنیادی ضروریات نہیں، اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے بھی بات کی مگر ان کا انداز پسند نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آسمان میں نہیں بلکہ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کا مجموعہ ہے، خیبرپختونخوا کو پاکستان کیوں نہیں سمجھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ سب نے آئین پاکستان کی حفاظت کا حلف لیا ہے، ایوان کو مضبوط کیا جائے، پاکستان دنیا کا اہم ملک ہے اور اس کی بہترین فوج ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ بلوچوں کو بلائیں اور کہیں کہ بلوچستان کے وسائل پر ان کے بچوں کا حق ہے، یہی بات سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام سے بھی کی جائے۔ آخر میں انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].