بلوچستان میں مخلوط حکومت، تبدیلی ٹلنے کے بعد کابینہ و بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کا امکان

بلوچستان میں مخلوط حکومت، تبدیلی ٹلنے کے بعد کابینہ و بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کا امکان
کوئٹہ(دی باغوان )پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بلوچستان میں ڈھائی، ڈھائی سالہ حکومت کے سابقہ معاہدے میں تبدیلی کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت میر سرفراز بگٹی ہی بلوچستان کے وزیراعلیٰ برقرار رہیں گے۔ذرائع کے مطابق دونوں اتحادی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطوں میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال، اتحادی حکومت کے مستقبل اور صوبائی کابینہ میں رد و بدل سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سردار ایاز صادق جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اعجاز خان جاکرانی بلوچستان کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے مشاورت کریں گے۔ دونوں رہنما سفارشات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرکے اپنی اپنی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو پیش کریں گے، جبکہ اس سلسلے میں دونوں کے درمیان ایک اہم ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سفارشات کی منظوری کے بعد بلوچستان کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا جائے گا۔ متعدد صوبائی وزرا کے قلمدان تبدیل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ بعض وزرا کو کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ سے فارغ بھی کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ میں نئے وزرا اور مشیروں کو بھی شامل کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت کی نئی تشکیل سامنے آئے گی۔دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق کابینہ میں متوقع تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان ہے۔ متعدد انتظامی محکموں کے سیکریٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سمیت دیگر سینئر افسران کی تقرریوں اور تبادلوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ کابینہ سے متعلق حتمی فیصلوں کے بعد ان تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق تمام سفارشات کو دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی منظوری کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.