بیروت(بی بی سی)شام کے وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ’مفادات کا تقاضا ہوا‘ تو دمشق حزب اللہ سے ملاقات کے لیے تیار ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کو بیروت کے دورے کے دوران شام کے وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے لبنانی صدر جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام اور پارلیمان کے سپیکر نبیہ بری سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
لبنان میں حزب اللہ اور شامی افواج کے درمیان ممکنہ تصادم سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد یہ اسد الشیبانی کا لبنان کا پہلا دورہ تھا۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسد الشیبانی نے کہا کہ لبنانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں حزب اللہ کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا تاہم انھوں نے کہا کہ شام اس گروپ سے ملاقات کے لیے تیار ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے شامی صدر احمد الشراع سے حزب اللہ کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ٹرمپ نے لبنان میں متعدد شہریوں کی ہلاکت پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اسد الشیبانی کا یہ دورہ اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نئے مرحلے کے آغاز کے بعد شام کے کسی سینئر عہدیدار کا لبنان کا پہلا دورہ تھا۔ شام میں اسلامی اتحاد کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے روابط میں نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام بھی مئی میں شام کا دورہ کر چکے ہیں۔
شام کی نئی قیادت کے حزب اللہ کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں سمجھے جاتے۔ حزب اللہ سابق شامی صدر بشار الاسد کی اہم اتحادی رہی ہے۔
2024 کے اواخر سے شام کے راستے حزب اللہ کو فنڈنگ اور اسلحے کی فراہمی کے سابقہ راستے منقطع ہو چکے ہیں۔ دمشق کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسلحے کی سمگلنگ کی متعدد کوششیں بھی ناکام بنائی گئی ہیں۔
احمد الشراع کی قیادت میں شام کی نئی حکومت اب امریکہ کی اتحادی سمجھی جاتی ہے۔ نئی حکومت نے بڑی حد تک امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان علاقائی کشیدگی سے خود کو دور رکھا ہے۔
ادھر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکی حمایت سے ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].