زیارت سانحہ: انصاف، ریاستی ذمہ داری اور بلوچستان میں پائیدار امن کا تقاضا

زیارت سانحہ: انصاف، ریاستی ذمہ داری اور بلوچستان میں پائیدار امن کا تقاضا
بلوچستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خونریز واقعات سے دوچار ہوا، جہاں زیارت میں پولیس اہلکاروں، ہنہ اوڑک میں عام شہریوں، لسبیلہ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادت نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ ان سانحات کے بعد ہنہ اوڑک اور زیارت کے شہداء کے لواحقین نے انصاف کے مطالبے کے لیے زیارت اور کوئٹہ میں دھرنے دیے اور واضح کیا کہ ان کا مقصد محض مالی امداد حاصل کرنا نہیں بلکہ واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔ یہ مطالبات ایک ایسے معاشرے کی آواز ہیں جو مسلسل بدامنی اور جانی نقصانات سے تھک چکا ہے۔ لواحقین کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ اپنی نوعیت میں جائز ہے۔ ہر بڑے دہشت گرد حملے کے بعد صرف مذمتی بیانات یا مالی امداد کافی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ واقعات کی مکمل تحقیقات ہوں، سیکیورٹی خامیوں کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت یا کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا بھی تعین کیا جائے۔ یہی طرزِ عمل مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا دھرنے کے شرکاء سے براہِ راست ملاقات کرنا، ان کے تحفظات سننا اور شہداء کے ورثاء کے لیے مالی امداد، سرکاری ملازمتوں اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے جیسے اعلانات ایک مثبت پیش رفت ہیں۔ اس کے نتیجے میں دھرنے کا پرامن اختتام اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی مسائل کا حل تصادم کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور سیاسی بصیرت سے نکالا جا سکتا ہے۔ تاہم اصل کامیابی ان وعدوں پر بروقت اور مکمل عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورۂ کوئٹہ، ایپکس کمیٹی کے اجلاس اور بلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورت نے یہ واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں امن کو قومی سلامتی اور ترقی کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس، ریاستی رٹ کے استحکام اور وفاق و صوبے کے درمیان ہم آہنگی کے اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن بلوچستان کے عوام اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی، شورش، سیاسی بے یقینی اور سماجی محرومیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان مسائل کا حل صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں ہو سکتا۔ مؤثر انٹیلی جنس، جدید پولیسنگ، سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ، مقامی آبادی کا اعتماد، قانون کی بالادستی اور انصاف کی بروقت فراہمی ایک جامع حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔ جب تک عوام کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی میں بھی سنجیدہ ہے، اس وقت تک پائیدار امن کا قیام ایک مشکل ہدف رہے گا۔ زیارت کے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ریاست کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائی۔ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ان کی قربانیوں کا عملی احترام کرے بلکہ ان کے لواحقین کو انصاف، تحفظ اور اعتماد بھی فراہم کرے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی طرح انصاف بھی صرف عدالتوں کا نہیں بلکہ ریاستی نظام کی مجموعی ساکھ کا امتحان ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہنہ اوڑک، زیارت سانحہ کو محض ایک اور دہشت گردی کا واقعہ سمجھ کر فراموش نہ کیا جائے، بلکہ اسے بلوچستان میں سیکیورٹی، گورننس اور انصاف کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر اس سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے مؤثر اصلاحات کی گئیں، شفاف تحقیقات مکمل ہوئیں اور متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے وعدے پورے کیے گئے تو یہ شہداء کی قربانیوں کا حقیقی اعتراف ہوگا۔ بصورت دیگر ایسے سانحات کے بعد پیدا ہونے والا عدم اعتماد مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑے گا۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.