مولانا فضل الرحمن کی کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت سے معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے پر زور

مولانا فضل الرحمن کی کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت سے معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے پر زور
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا کشمیر میں جاری دھرنے کے حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے نام اہم پیغام میں کہا ہے کہ ضلع پونچھ کے صدر مقام راولاکوٹ اور گردونواح میں کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں عوام کا ایک بڑا اجتماع ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے دھرنا دیے ہوئے ہے، اور وہ اپنے مطالبات کے لیے بیٹھے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ لیکن، تاہم، اس دوران کچھ ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے، جس سے ماحول میں تلخی پیدا ہوئی، اور اس کے بعد اس موضوع کا ہماری پارلیمان میں تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا، جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔ اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر اور اس کے قائد، جناب مولانا سعید یوسف خان صاحب، میرے ساتھ رابطے میں رہے۔ راولاکوٹ کے علمی گھرانے کی ایک قبائلی شخصیت، جناب کامران اعظم خان صاحب، بھی میرے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں، اور میں اس پر بھی شکر گزار ہوں کہ حکومت کے ساتھ رابطہ کرنے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے انہوں نے متعدد بار اگلے اقدامات کے اعلان سے گریز کیا اور اگلے اقدامات کو ملتوی کرتے رہے۔ اس تسلسل میں آج میری گفتگو جناب بلاول بھٹو زرداری سے ہوئی ہے۔ وہ مظفرآباد میں ہیں، اور ان سے میری کوئی ہفتہ، دس دن پہلے ملاقات ہوئی تھی۔ اسی تسلسل میں آج میرا رابطہ ہوا، جس پر انہوں نے اپنی کیور روم کا تذکرہ کیا، حکومت سے بات چیت کا تذکرہ کیا، لیکن، تاہم، چونکہ وہ بھی ابھی کسی نتیجے پر پہنچے نہیں ہیں، اس لیے مجھ سے یہی بات کہتے رہے کہ میں مسلسل کوشش میں ہوں، اور میں چاہتا ہوں کہ خون خرابہ نہ ہو، وہاں کوئی فسادات نہ ہوں، اور بات چیت کے ذریعے سے ہم مسئلے کا کوئی حل نکال سکیں۔ تو انہوں نے کہا، میں اس پر مصروف ہوں، سو ان کو بھی حکومت سے بات کرنے کے لیے، یا مسئلے کے حل کے لیے، کچھ مہلت چاہیے۔ اس موقع پر میں عوامی ایکشن کمیٹی سے ایک بار پھر یہ اپیل کروں گا کہ وہ فی الحال کسی بھی اگلے اقدام سے گریز کریں اور چند روز مہلت دیں، تاکہ اگر اس حوالے سے کوئی کوشش ہو رہی ہے تو پیش رفت ہو سکے۔ اور اگر پیش رفت ہوتی ہے، اور مثبت پیش رفت ہوتی ہے، تو یہ پاکستان کے لیے بھی بہتر ہے، یہ کشمیر کے لیے بھی بہتر ہے، اور کشمیری عوام اور پاکستانی عوام کے درمیان باہمی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اس کی ازحد ضرورت ہے۔ میں امید رکھوں گا کہ میری اپیل پر وہ مثبت جواب دیں گے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.