بلوچستان میں امن و امان، اضلاع کی تقسیم اور وسائل کی الاٹمنٹ پر شدید تحفظات، 29 تا 31 اگست کو کوئٹہ میں جرگہ بلائیں گے: محمود خان اچکزئی

بلوچستان میں امن و امان، اضلاع کی تقسیم اور وسائل کی الاٹمنٹ پر شدید تحفظات، 29 تا 31 اگست کو کوئٹہ میں جرگہ بلائیں گے: محمود خان اچکزئی
کوئٹہ(دی باغوان)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور داخلی حالات انتہائی تشویشناک ہیں، ملک میں جمہوری اداروں کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، اضلاع کی تقسیم، زمینوں کی الاٹمنٹ اور عوام کو درپیش مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں بظاہر اسمبلیاں اور سینیٹ موجود ہیں، تاہم عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے ان اداروں کا مؤثر کردار نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اضلاع کی تقسیم کے فیصلوں پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور پشتون علاقوں کو تقسیم کرنے کی کوششیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہوں گی۔ اس حوالے سے 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں ایک بڑے جرگے کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں عوام کے سامنے تمام معاملات اور تحفظات رکھے جائیں گے، جبکہ ستمبر یا اکتوبر میں پشتونخوا وطن کا ایک اور جرگہ بھی طلب کیا جائے گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ ان کے بقول، مختلف بلوچ مسلح گروہوں اور ریاست کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عام شہری، مزدور اور مسافر بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک، زیارت اور دیگر واقعات کے بعد کسی ذمہ دار شخص نے استعفیٰ نہیں دیا، جبکہ مختلف علاقوں میں گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور مزدوروں کے قتل جیسے افسوسناک واقعات رونما ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قومی شاہراہوں پر ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں سے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں اور نقل و حمل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فضائی سفر کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں مقامی لوگوں کی زمینیں دوسروں کو الاٹ کی جا رہی ہیں، جسے وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کے حقوق اور وسائل کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو سابق وزیراعظم عمران خان کی قید کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، جس کے موقع پر ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون علاقوں میں امن کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے تمام جمہوری و آئینی ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر محمود خان اچکزئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی مسائل، صوبے کے حقوق، امن و امان کی بحالی اور آئینی و جمہوری جدوجہد کے لیے اپنی سیاسی کوششیں جاری رکھیں گے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.