بلوچستان میں امنو امان کی بگڑتی صورتحال و قومی شاہراہوں پر بدامنی سے شہری زندگیاں بری طرح متاثر ہورہی ہے:میر مراد بلوچ

بلوچستان میں امنو امان کی بگڑتی صورتحال و قومی شاہراہوں پر بدامنی سے شہری زندگیاں بری طرح متاثر ہورہی ہے:میر مراد بلوچ
کوئٹہ(پ ر)کوئٹہ چیمبر آف سمال انڈسٹری اینڈ ٹریڈز کے صدر میر مراد بلوچ نے بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور کوئٹہ کو صوبے کے دور دراز اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں پر جاری بدامنی اور رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ صحت، تجارت، تعلیم اور سرکاری امور کا مرکزی شہر ہے۔ ان شاہراہوں کی بندش اور غیر محفوظ صورتحال کے باعث لاکھوں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ دور دراز علاقوں کے مریض بروقت علاج کے لیے کوئٹہ نہیں پہنچ پا رہے، جبکہ خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ کاروباری سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں، سپلائی چین متاثر ہے اور تاجر برادری کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔بلوچستان پاکستان کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، مگر عوام، تجارت اور ضروری سامان کی نقل و حمل کا انحصار چند اہم قومی شاہراہوں پر ہے۔ ان شاہراہوں کی مسلسل بندش اور غیر محفوظ صورتحال نہ صرف روزمرہ زندگی بلکہ معدنیات، زراعت، صنعت اور تجارت سمیت پوری صوبائی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ہم حکومت بلوچستان، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں اور امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں کو سراہتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اس پر وفاقی اور صوبائی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ہم وفاقی اور صوبائی حکومت سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ قومی شاہراہوں کی مکمل سیکیورٹی یقینی بنانے، عوام اور ضروری اشیاء کی محفوظ نقل و حمل بحال کرنے، اور بلوچستان میں معمولاتِ زندگی کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے ہنگامی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ محفوظ شاہراہیں بلوچستان کی معیشت کی شہ رگ ہیں، اور عوام کا اعتماد بحال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.