ہیپاٹائٹس جان لیوا مرض، بروقت تشخیص، ویکسین اور احتیاط ہی مؤثر بچاؤ ہے: ڈاکٹر یاسر اقبال خوستی

ہیپاٹائٹس جان لیوا مرض، بروقت تشخیص، ویکسین اور احتیاط ہی مؤثر بچاؤ ہے: ڈاکٹر یاسر اقبال خوستی
کوئٹہ(پ ر) ممتاز معالج برائے گیسٹرو انٹرولوجسٹ اینڈ ہیپاٹولوجسٹ ڈاکٹر یاسر اقبال خوستی نے عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس ایک خطرناک بیماری ہے، جو ابتدائی مراحل میں اکثر واضح علامات ظاہر نہیں کرتی، تاہم بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ جگر کے دائمی امراض، جگر کے فیل ہونے اور جگر کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال 28 جولائی کو عالمی یومِ ہیپاٹائٹس منانے کا مقصد عوام میں اس بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، بروقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور مؤثر علاج تک رسائی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر روز تقریباً 3,500 افراد ہیپاٹائٹس سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے فوت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اندازاً 1 کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہیں۔پاکستان میں تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی جبکہ 20 سے 30 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہونے کا تخمینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس بیماری کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر یاسر اقبال خوستی نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی زیادہ تر آلودہ یا دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں، غیر محفوظ خون کی منتقلی، غیر جراثیم کش طبی و دندان سازی کے آلات، ٹیٹو یا جسم چھدوانے کے دوران غیر محفوظ آلات کے استعمال، حجامت کے غیر معیاری اوزار اور بعض صورتوں میں متاثرہ ماں سے بچے کو منتقل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ہر فرد کو مستند طبی مراکز سے علاج کروانا چاہیے اور صرف نئی یا جراثیم سے پاک سرنجوں اور آلات کے استعمال کو یقینی بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے ہیپاٹائٹس بی اور سی کی اسکریننگ کروائیں، خصوصاً وہ افراد جو خطرے سے دوچار ہوں، تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص ہو سکے اور فوری علاج شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کی ویکسین لازمی لگوائیں، کیونکہ ویکسین اس بیماری کے خلاف سب سے مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔ڈاکٹر یاسر اقبال خوستی نے مزید کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی، ذاتی صفائی، محفوظ طبی طریقہ کار، مستند بلڈ بینک سے خون کی فراہمی اور عوامی آگاہی ہی ہیپاٹائٹس کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، طبی ماہرین، میڈیا اور عوام کو مشترکہ طور پر اس بیماری کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو ہیپاٹائٹس سے محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ ہیپاٹائٹس ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم بروقت ٹیسٹ کروائیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں، درست معلومات کو فروغ دیں اور اپنے معاشرے کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اگر چاہیں تو میں اسے اخباری خبر یا پریس ریلیز کے روایتی انداز میں بھی ترتیب دے سکتا ہوں۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.