کوئٹہ(دی باغوان)میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے 24 جولائی 2023 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے تحت جی پی او چوک کا نام سرکاری طور پر "برلن۔کوئٹہ فرینڈشپ اسکوائر" رکھا گیا تھا۔ یہ فیصلہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان 70 سالہ سفارتی تعلقات کی مناسبت سے جرمن حکومت کے تعاون اور برلن بڈی بیئر کی تنصیب کے موقع پر کیا گیا تھا، جسے دونوں ممالک کی دوستی اور باہمی تعاون کی علامت قرار دیا گیا تھا۔بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر جی پی او چوک کا نام تبدیل کرکے "شہید رازق بگٹی چوک" رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد میٹروپولیٹن کارپوریشن نے محکمہ بلدیات کو ارسال کردہ مراسلے میں نشاندہی کی کہ مذکورہ چوک پہلے ہی برلن۔کوئٹہ فرینڈشپ اسکوائر کے نام سے سرکاری طور پر نامزد کیا جا چکا ہے۔مراسلے کے مطابق بلوچستان میں تعینات جرمن قونصل جنرل نے بھی اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے درخواست کی کہ برلن اور کوئٹہ کے درمیان دوطرفہ سفارتی تعلقات اور دوستی کے وسیع تر مفاد میں اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن نے معاملے کی حساسیت اور ایک دوست ملک کی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو مزید ہدایات کے لیے بھجوانے کی سفارش بھی کی۔اس معاملے پر عوامی، سماجی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برلن۔کوئٹہ فرینڈشپ اسکوائر کا نام صرف ایک سڑک یا چوک کی شناخت نہیں تھا بلکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوستانہ تعلقات، ثقافتی روابط اور سفارتی احترام کی علامت تھا۔ ایسے فیصلوں میں تسلسل برقرار رکھنا اور بین الاقوامی تعلقات کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہید رازق بگٹی کی خدمات اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، تاہم ایک دوست ملک کے ساتھ تعلقات کی یادگار کے طور پر قائم کیے گئے نام کو تبدیل کرنا مناسب تاثر نہیں دیتا۔ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد ایسا حل نکالا جائے جس سے قومی شخصیات کے احترام کے ساتھ ساتھ پاکستان اور جرمنی کے دوستانہ تعلقات بھی متاثر نہ ہوں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].