کوئٹہ(پ ر)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے تربت میں دھماکے اور مستونگ میں وزیر داخلہ میر ضیا لانگو پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کے محفوظ رہنے پراطمینان کا اظہار کیا انہوں نے کہا ہے کہ بے گناہ اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنانے والے کسی صورت بلوچستان کے خیرخواہ نہیں منفی عناصر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرکے صوبے کو مزید بدامنی، پسماندگی اور تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربت میں دھماکا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے جس میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا بلوچستان کے عوام کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ جو عناصر عام لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے تشدد اور دھماکوں کا سہارا لے رہے ہیں، وہ نہ بلوچستان کے عوام کے خیرخواہ ہیں اور نہ ہی صوبے کے مستقبل سے مخلص ہیں۔ بے گناہ شہریوں کا خون بہا کر کسی مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ منفی عناصر اپنے مذموم عزائم کے ذریعے بلوچستان میں خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جائے، معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا جائے اور صوبے کو مزید انتشار کی جانب دھکیلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل براہ راست بلوچستان کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو امن، روزگار، تعلیم، صحت اور ترقی کے مواقع درکار ہیں، نہ کہ خوف، تشدد اور لاشیں۔ جو لوگ عوامی مقامات اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ دراصل بلوچستان کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔انہوں نے حملے اور دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے باشعور عوام کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں بن سکتے جو ان کے اپنے گھروں، بازاروں، راستوں اور مستقبل کو غیر محفوظ بنائے۔انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کارروائی کو بلوچستان کے مفاد یا حقوق کی جدوجہد کا نام نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ عوام کا تحفظ اور بلوچستان کا پرامن مستقبل ہر سیاسی و سماجی قوت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].