زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کا نائٹروجینیس کھاد پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کا نائٹروجینیس کھاد پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
کوئٹہ(پ ر) زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان نے حکومت بلوچستان کی جانب سے نائٹروجینیس فرٹیلائزرز کی نقل و حمل، فروخت، خریداری، سپلائی اور تقسیم پر عائد پابندی کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی، جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی،سید عبدالقہار آغا،حاجی نور احمد بلوچ، عبدالجبار کاکڑ، حاجی محمد افضل بدوزئی، حاجی کاظم خان اچکزئی، حاجی عزیز سرپرہ، حاجی شیر علی مشوانی، عبداللہ جان میر زئی، ٹکری پار الدین، حاجی محمد رضا ترین، منیر احمد شاہوانی، عزیز مغل، سید صدیق اللہ آغا، حق نواز لانگو، ملک یعقوب شاہوانی، عبد الغفار کاکڑ، حاجی عبد القدوس اچکزئی،عبید اللہ پانیزئی، معراج مندوخیل، سردارزادہ ابراہیم باروزئی، اور ایگزیکٹو ممبران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کھاد کی ترسیل اور فراہمی پر پابندی سے بلوچستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ لاکھوں زمینداروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی پانی کی قلت، خشک سالی، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی اخراجات میں اضافے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں فصلوں اور باغات کے لیے ضروری کھاد کی فراہمی روکنا زمینداروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہییں جن کا براہِ راست نقصان زراعت اور کسانوں کو پہنچے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پابندی ہی ہر مسئلے کا حل ہے؟ اگر پابندی کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور باغات کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے ذمہ دار کون ہوں گے؟انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، مستونگ، خانوزئی، سبی اور نصیر آباد سمیت مختلف اضلاع میں کھاد کی ترسیل پر پابندی کے باعث زمیندار سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک طرف صوبے کے مختلف علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال ہے، دوسری جانب کھاد کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ زرعی ٹیکس کے نام پر بھی زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔زمیندار ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت بلوچستان پابندی کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرے اور زمیندار تنظیموں، محکمہ زراعت، متعلقہ اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایسا قابلِ عمل طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے امن و امان کے تقاضے بھی پورے ہوں اور زمینداروں کو بروقت کھاد کی دستیابی بھی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نائٹروجینیس فرٹیلائزرز پر عائد پابندی فوری طور پر واپس نہ لی گئی تو بلوچستان کے زمیندار شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.