اسلام آباد(دی باغوان)پاکستان مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے کہاہے کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کراچی جانے والی شاہراہ تقریبا ناقابلِ سفر ہوچکی ہے،پیپلزپارٹی سکھر روٹ پر سندھ پولیس کے مبینہ رویے کا نوٹس لیا جائے تاکہ بلوچستان سے سندھ اور کراچی جانے والے عوام کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔جمال شاہ کاکڑنے بلوچستان کے عوام کو درپیش سفری مشکلات، کراچی روڈ کی خراب صورتحال، سندھ میں مبینہ روڈ ڈکیتیوں اور کراچی میں پشتون کمیونٹی و کاروباری افراد کے ساتھ مبینہ زیادتیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کراچی جانے والی شاہراہ تقریبا ناقابلِ سفر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راستے میں ہونے والی مبینہ روڈ ڈکیتیوں نے بھی مسافروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے راستے، خصوصا سکھر روٹ پر سفر کرنے والے بلوچستان کے شہریوں کو سندھ پولیس کی جانب سے بھی مبینہ طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ سے اپیل کی کہ سکھر روٹ پر سندھ پولیس کے مبینہ رویے کا نوٹس لیا جائے تاکہ بلوچستان سے سندھ اور کراچی جانے والے عوام کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث پی آئی اے اور نجی ایئرلائنز کے کرایوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور چند ہزار روپے کے ٹکٹ لاکھوں روپے میں دستیاب ہیں، جس سے عام شہری کے لیے فضائی سفر انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں کوئٹہ سے تقریبا دس ٹرینیں روزانہ چلتی تھیں جو غریب عوام کے لیے سفر کا اہم ذریعہ تھیں، تاہم اب ٹرینوں کی تعداد کم ہوکر ایک دو رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق **بولان میل اور جعفر ایکسپریس بھی بند ہیں۔جمال شاہ کاکڑ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عوام کی سفری مشکلات کے پیش نظر **بولان میل اور جعفر ایکسپریس کو روزانہ کی بنیاد پر بحال کیا جائے۔کراچی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جن سے لوگوں میں نفرت اور اشتعال پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کراچی میں پشتون کمیونٹی اور کاروباری افراد کے ساتھ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کا معاملہ بھی قومی اسمبلی میں اٹھایا۔انہوں نے گزشتہ روز شفیق موڑ کراچی میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے پشتون افراد کو گرفتار کرکے حراست میں لیا، حالانکہ ان کے مطابق گرفتار افراد بے گناہ تھے۔جمال شاہ کاکڑ نے سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں پشتون کمیونٹی اور کاروباری افراد کے ساتھ مبینہ زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے، غیر ضروری گرفتاریوں اور کارروائیوں کا سلسلہ روکا جائے اور سندھ پولیس کو مناسب ہدایات جاری کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پشتونوں اور کاروباری افراد کے ساتھ ایسے واقعات کا تدارک ضروری ہے تاکہ کراچی میں مزید کشیدگی اور نفرت کو جنم لینے سے روکا جاسکے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].