کوئٹہ (دی باغوان)بلوچستان پولیس ڈیجیٹل انیشی ایٹو کے تحت 16 نئی موبائل ایپلی کیشنز کا افتتاح کردیا۔جمعہ کوسینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں پولیس ڈیجیٹل انیشی ایٹو کے تحت خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر رائے، پولیس افسران، اہلکاروں اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔پولیس حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے پولیس خدمت موبائل سمیت 16 نئی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ان ایپلی کیشنز کی تیاری کے لیے دن رات محنت کی گئی ہے اور ان سے بلوچستان کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پولیس کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایپلی کیشنز عوامی شکایات کے ازالے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے اس اقدام پر بلوچستان پولیس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان سہولیات سے خواتین سمیت تمام شہری مستفید ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین مختلف شعبوں خصوصاً سول سروسز میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور حکومت خواتین کی تعلیم و ترقی کے لیے اسکالرشپ پروگراموں کے ذریعے دنیا کی مختلف جامعات میں تعلیم کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہراسگی سمیت مختلف جرائم کے تدارک میں بھی مدد ملے گی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام دیگر صوبوں کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔تقریب کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جوابات دیتے ہوئے کہا وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کے مسائل کے حل اور امن و امان کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں ہونے والے حملوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے رواں برس ایک ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے تو سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حملوں میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں جبکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے والوں کے مقابلے میں حکومت میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق حالیہ سرکاری بھرتیوں میں ان کے اپنے حلقے سے کوئی امیدوار منتخب نہیں ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی گئی ہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].