نئی دہلی(جیو نیوز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے ساتھ انتہائی مثبت اور اچھی بات چیت کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں ماضی کو پیچھے چھوڑنے پر اتفاق کیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’ہم نے ماضی کو ایک طرف رکھنے اور مستقبل کی جانب دیکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ ہم مل کر کس طرح ایک مشترکہ اور بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں‘۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور ایران کو دباؤ کے ذریعے تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے شہری تنصیبات، خوراک اور لوگوں کے روزگار کو نشانہ بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کریں، شہری بنیادی ڈھانچے اور خوراک کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
ایرانی صدر نے بنیادی ضروریات تک رسائی محدود کرنے پر بھی امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی انسانیت پر یقین رکھتے ہیں تو لوگوں کو پانی، خوراک اور ادویات تک رسائی سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے۔
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ایران کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].