بلوچستان صدیوں سے مختلف اقوام، زبانوں، ثقافتوں، تہذیبوں اور روایات کا مسکن رہا ہے: رحمت صالح بلوچ

بلوچستان صدیوں سے مختلف اقوام، زبانوں، ثقافتوں، تہذیبوں اور روایات کا مسکن رہا ہے: رحمت صالح بلوچ
کوئٹہ (دی باغوان )نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پشتون قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان صدیوں سے مختلف اقوام، زبانوں، ثقافتوں، تہذیبوں اور روایات کا مسکن رہا ہے۔ صوبے میں آباد تمام اقوام نے اپنی اپنی ثقافتی روایات اور تہذیبی اقدار کے ذریعے بلوچستان کے اجتماعی تشخص کو مزید خوبصورت اور مضبوط بنایا ہے۔اپنے بیان میں میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے پشتون قوم کی شاندار تاریخ، ثقافتی ورثے، زبان، ادب، فنون، روایتی اقدار اور سماجی روایات کو اجاگر کرنے کا ایک اہم دن ہے۔ پشتون ثقافت اپنی قدامت، روایات کی مضبوطی اور سماجی اقدار کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ پشتون معاشرے میں مہمان نوازی، سخاوت، بہادری، عزت و احترام، باہمی تعاون اور رواداری جیسی اقدار کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت کا بنیادی حوالہ ہوتی ہے۔ کسی قوم کی زبان، لباس، رہن سہن، موسیقی، ادب، لوک داستانیں، روایتی اقدار اور تاریخی ورثہ اس کے تہذیبی سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس لیے ثقافتی دن محض جشن منانے کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی تاریخ اور تہذیبی ورثے کو یاد کرنے، نئی نسل کو اس سے روشناس کرانے اور اپنی ثقافتی شناخت کے تحفظ کے عزم کی تجدید کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتون نوجوانوں کا اپنی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافت سے جڑے رہنا انتہائی اہم ہے۔ جدید دور میں دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور نئی نسل مختلف عالمی ثقافتوں سے متاثر ہو رہی ہے، ایسے میں اپنی بنیادی ثقافتی شناخت اور تاریخی شعور کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم اور ترقی کے ساتھ اپنی مادری زبان اور ثقافتی اقدار کا تحفظ بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شناخت کسی ایک قوم یا ثقافت تک محدود نہیں بلکہ یہاں صدیوں سے آباد مختلف اقوام کی مشترکہ تاریخ، روایات اور ثقافتوں سے تشکیل پاتی ہے۔ بلوچ، پشتون، براہوی، ہزارہ اور دیگر برادریاں بلوچستان کے سماجی اور ثقافتی منظرنامے کا اہم حصہ ہیں۔ ان تمام اقوام کی زبانیں، روایات اور ثقافتی اقدار صوبے کے اجتماعی تہذیبی ورثے کو مالا مال کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام، برداشت اور رواداری ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ ثقافتی تنوع کو تقسیم کے بجائے اتحاد اور بھائی چارے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ مختلف ثقافتوں اور روایات کے احترام کی روایت کو برقرار رکھا ہے اور یہی رویہ صوبے میں سماجی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اپنی ثقافتی روایات، زبانوں اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دوسری اقوام کی ثقافتوں کا بھی احترام کریں گے۔ ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے اور اس کا احترام کرنے سے معاشرے میں نفرت اور فاصلے کم ہوتے ہیں جبکہ بھائی چارے اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ثقافتی دولت کو محفوظ بنانے کے لیے ادیبوں، دانشوروں، فنکاروں، طلبہ اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، ثقافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ مختلف اقوام کی زبان، ادب، موسیقی، لوک فنون اور تاریخی روایات کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کریں تاکہ یہ قیمتی ورثہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ پشتون قوم نے ادب، سیاست، سماجی خدمت، تعلیم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کی ثقافتی روایات نہ صرف پشتون معاشرے کی شناخت ہیں بلکہ بلوچستان کے وسیع تر ثقافتی ورثے کا بھی اہم حصہ ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پشتون قوم اپنی شاندار ثقافتی روایات، زبان، ادب اور تہذیبی اقدار کو آگے بڑھانے کے ساتھ بلوچستان میں آباد تمام اقوام کے درمیان محبت، بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گی میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ صوبے کا حقیقی حسن اس کے ثقافتی تنوع، مختلف اقوام کے باہمی احترام اور مشترکہ روایات میں پوشیدہ ہے۔ بلوچستان میں بسنے والی تمام اقوام امن، ترقی، خوشحالی اور باہمی ہم آہنگی کی خواہاں ہیں اور یہی مشترکہ اقدار صوبے کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.