بلوچستان ہائی کورٹ کا اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی ضلعی و یونین کونسل کی بنیاد پر ہونے والی ابتدائی تقرریوں کے بعد انہیں کوئٹہ منتقل کرنے کے معاملے کا سخت نوٹس

بلوچستان ہائی کورٹ کا اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی ضلعی و یونین کونسل کی بنیاد پر ہونے والی ابتدائی تقرریوں کے بعد انہیں کوئٹہ منتقل کرنے کے معاملے کا سخت نوٹس
کوئٹہ(خ ن)بلوچستان ہائی کورٹ نے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی ضلعی و یونین کونسل کی بنیاد پر ہونے والی ابتدائی تقرریوں کے بعد انہیں کوئٹہ منتقل کرنے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کو ایسے تمام تبادلوں کے احکامات واپس لینے اور متعلقہ ملازمین کو ان کی اصل جائے تعیناتی پر بحال کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ انفرادی مقدمات میں عدالت کی جانب سے منظور شدہ احکامات کے علاوہ دیگر تمام متعلقہ تبادلوں پر نظرثانی کرکے عدالتی حکم پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ڈائریکٹر (اسکولز)، محکمہ تعلیم کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے۔ درخواست گزار خیر محمد شاہین کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ تعلیم میں بی پی ایس 01 سے بی پی ایس 15 تک کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تقرریاں یونین کونسل کی بنیاد پر، جبکہ بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر کے ملازمین کی تقرریاں ڈویژنل بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ تاہم، متعلقہ علاقوں میں ابتدائی تقرری اور تعیناتی کے بعد بعض ملازمین مختلف طریقوں سے اپنا تبادلہ کوئٹہ ضلع میں کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کوئٹہ شہر کے مختلف اسکولوں، اداروں اور دیگر محکموں میں تعینات یا ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔درخواست میں مزید نشاندہی کی گئی کہ اس عمل کے باعث ملازمین کی اصل جائے تعیناتی پر منظور شدہ آسامیاں خالی ہوجاتی ہیں، جنہیں بعدازاں نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کے تحت مخصوص علاقوں کے لیے مختص آسامیوں پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو کوئٹہ منتقل کردیا جاتا ہے، جبکہ ان علاقوں کے مقامی طلبہ کو اساتذہ کی کمی اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عدالت کے مشاہدے کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف یونین کونسل اور ڈویژن کی بنیاد پر تقرریوں کا بنیادی مقصد متاثر ہوتا ہے بلکہ متعلقہ علاقوں کے باشندوں کے حقوق اور جائز مفادات بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس معاملے کو عوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے عدالت نے سرکاری ملازمین کی منصفانہ تقسیم اور ان مقامات پر تدریسی و غیر تدریسی عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جہاں ان کی آسامیاں اصل میں منظور کی گئی تھیں۔عدالت نے ابتدائی مرحلے پر 21 اکتوبر 2025 کے حکم کے ذریعے محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ صوبے میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کی مجموعی تعداد، فعال اور غیر فعال اسکولوں کی تفصیلات، اساتذہ کی دستیابی، منظور شدہ آسامیوں اور خالی اسامیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے خالی آسامیوں کی وجوہات، بشمول ریٹائرمنٹ، وفات، استعفیٰ، ڈیپوٹیشن، تبادلوں، شادی کی پالیسی، غیر معمولی رخصت، مستقل ایڈجسٹمنٹ اور دیگر متعلقہ وجوہات کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔17 ستمبر 2026 کو سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری تعلیم لال جان جعفر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بعض اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم معاملے کی دیرینہ نوعیت کے پیش نظر مزید وقت درکار ہے تاکہ ایک جامع رپورٹ مرتب کی جاسکے۔بعدازاں 1 اکتوبر 2026 کو سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ کسی بھی ضلع سے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو کوئٹہ ضلع منتقل کرنے اور تعینات کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم غیر معمولی حالات میں اس پابندی میں نرمی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔عدالت نے معاملے کی سنگینی اور عوامی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب دہندگان کو ہدایت کی کہ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو ان کے اصل مقامات سے کسی دوسرے اسٹیشن یا ضلع، بالخصوص کوئٹہ ضلع منتقل کرنے کے تمام متعلقہ احکامات واپس لینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ ایسے تمام ملازمین کو ان کی اصل جائے تعیناتی پر بحال یا دوبارہ تعینات کیا جائے، سوائے ان معاملات کے جن میں عدالت نے انفرادی طور پر کوئی حکم صادر کیا ہو۔عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ افسران اور ملازمین اپنی اصل جائے تعیناتی پر پہنچ کر باقاعدہ جوائننگ رپورٹ جمع کرائیں گے، جبکہ محکمہ تعلیم کے حکام عدالتی حکم پر اس کی روح اور منشا کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ اس ضمن میں تمام متعلقہ ملازمین کی جوائننگ رپورٹس اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی تفصیلات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ بھی آئندہ سماعت پر یا اس سے قبل عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے حکم نامے کی نقول ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے ذریعے چیف سیکرٹری بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی، سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری کالجز و اعلیٰ تعلیم اور سیکرٹری تعلیم (اسکولز) کو ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے سیکرٹریٹ کی سطح پر اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی فوری اقدامات کرسکے اور سیکرٹری تعلیم (اسکولز) کے ذریعے اس حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کی جاسکے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 نومبر 2026 تک ملتوی کردی۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.