اسرائیل(جیو نیوز)اسرائیل کی سینٹرل الیکشنز کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے نے منگل کے روز ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کا عمل مکمل طور پر قانونی تھا اور ان کی معلومات کے مطابق انتخابات میں کسی قسم کی منظم بے ضابطگیوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ڈین لیونے نے کمیٹی کے رکن اور 'یش اتید' پارٹی کے رکنِ کنیسٹ ولادیمیر بیلاک کو لکھے گئے ایک خط میں واضح کیا کہ ’کنیسٹ کے انتخابات مکمل طور پر قانونی طریقے سے منعقد ہوئے۔ پولنگ اسٹیشنز پر انتخابات کی شفافیت کی سختی سے حفاظت کی گئی تھی اور ہماری معلومات کے مطابق انتخابی شفافیت کی منظم خلاف ورزیوں کے الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے‘۔
لیونے نے مزید بتایا کہ سینٹرل الیکشنز کمیٹی کے چیئرمین جسٹس نوعام سولبرگ کی جانب سے 'شن بیت' سے تحقیقات کی درخواست دراصل خفیہ انٹیلی جنس سے متعلق تھی جس کا مزید جائزہ لیا جانا ضروری تھا اور اس معلومات کی ابھی تک مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سینٹرل الیکشنز کمیٹی کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادی کوئی ثبوت پیش کیے بغیر مسلسل یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے عرب ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بڑھا کر یہ الیکشن چوری کیا گیا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].