کوئٹہ(خ ن)پی پی ایچ آئی بلوچستان نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران صوبے میں بنیادی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، عوام تک صحت کی سہولیات کی رسائی بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے مثر استعمال کے حوالے سے نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔پی پی ایچ آئی بلوچستان کے جاری کردہ کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق سہ ماہی او پی ڈی وزٹس 10.7 لاکھ سے بڑھ کر 17.4 لاکھ تک پہنچ گئے، جو 63 فیصد اضافہ ہے۔ صوبے میں 124 بی ایچ یو پلس 24/7 مراکز فعال ہیں، جبکہ 184 ٹیلی ہیلتھ مراکز کے ذریعے دور دراز علاقوں کے مریضوں کو ماہرینِ صحت سے رابطے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 655 بی ایچ یوز کو سولرائز کیا جا چکا ہے۔پی پی ایچ آئی بلوچستان کی جانب سے زچگی اور بچوں کی صحت کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ جنوری تا جون کے دوران ANC-1 وزٹس 75,847 سے بڑھ کر 118,017 ہوئے، جو 56 فیصد اضافہ ہے۔ ادارہ جاتی زچگی کے کیسز 12,808 سے بڑھ کر 15,686 جبکہ PNC وزٹس 33,288 سے بڑھ کر 48,816 تک پہنچ گئے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ماہر طبی سہولیات کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے ٹیلی ہیلتھ سسٹم کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ اب تک 111,434 ٹیلی ہیلتھ کنسلٹیشنز فراہم کی جا چکی ہیں، جو 2024 کے مقابلے میں 55 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ نرو سینٹر کوئٹہ میں 91 کنسلٹیشن اسٹیشنز، 110 لیڈی میڈیکل آفیسرز اور 15 ماہر کنسلٹنٹس خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ کنسلٹیشن کی سہولت 24/7 دستیاب ہے۔جنوری 2025 سے اگست 2026 تک صحت مراکز کی تیاری کے مختلف اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی۔ لیبر روم انفراسٹرکچر کی دستیابی 11 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد، ایمرجنسی ادویات کی دستیابی 27 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد اور ضروری ادویات کی دستیابی 46 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد ہوگئی، جبکہ ANC/PNC ان پٹس کی دستیابی 4 فیصد سے بڑھ کر 74 فیصد تک پہنچ گئی۔پی پی ایچ آئی بلوچستان نے صحت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پیپر لیس اور کیش لیس آپریشنز، 19 ڈیجیٹل ماڈیولز، صحت دہلیز ایپ، ٹیلی ہیلتھ نرو سینٹر اور ProMetriX میرٹ بیسڈ ریکروٹمنٹ سسٹم سمیت متعدد جدید اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ ERP، HR، Payroll، Finance، Procurement اور Inventory کے شعبوں کو بھی ڈیجیٹل نظام سے مربوط کیا جا رہا ہے۔سیٹلائٹ سے منسلک بی ایچ یوزصوبے کے دور افتادہ اور ان علاقوں تک جہاں ماہر ڈاکٹرز کی دستیابی مشکل ہے، صحت کی سہولیات پہنچانے کے لیے Satellite-Enabled BHUs کا منصوبہ بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 184 بی ایچ یوز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے 120 سیٹلائٹ ٹرمینلز نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ متعدد مراکز پر ٹیلی میڈیسن کنسلٹیشنز بھی شروع ہو چکی ہیں۔پی پی ایچ آئی بلوچستان کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد صوبے کے ہر شہری کو قابلِ رسائی، مساوی، مربوط اور پائیدار بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنا اور بلوچستان میں ایک صحت مند مستقبل کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔بہتر رسائی، بہتر علاج، صحت مند بلوچستان کے وژن کے تحت پی پی ایچ آئی بلوچستان بنیادی صحت کے نظام کو مزید مثر، جدید اور عوام دوست بنانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].