’آپ یہ اپنے باس سے کیوں نہیں کہتے؟‘: امریکی الیکشن میں شکست کی وجہ جنگ کو قرار دینے پر قالیباف کا وینس سے سوال

’آپ یہ اپنے باس سے کیوں نہیں کہتے؟‘: امریکی الیکشن میں شکست کی وجہ جنگ کو قرار دینے پر قالیباف کا وینس سے سوال
تہران(بی بی سی)ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’امریکہ ’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی کے خاتمے کے دہانے پر موجود ہے۔‘ باقر قالیباف نے یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کے بعد ردِعمل میں دیا ہے جس میں جے ڈی وینس نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست میں ایران کے ساتھ جنگ کو ایک اہم سبب قرار دیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جے ڈی وینس کی پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے قالیباف نے لکھا کہ ’آپ کا باس جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ امریکہ 'اسرائیل فرسٹ' پالیسی کے خاتمے کے دہانے پر کھڑا ہے۔‘ قالیباف نے انھیں ایک ایسے ’ہارے ہوئے جواری‘ سے تشبیہ دی جو شکست کے باوجود کھیل کی میز چھوڑنے کو تیار نہیں۔ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’تھیٹر کی تقریریں چھوڑیں۔ آپ یہ بات اپنے باس سے کیوں نہیں کہتے؟‘ یاد رہے کہ جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کے اہم عوامل میں سے ایک تھی۔ جے ڈی وینس نے کیا کہا تھا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز اپنی جماعت کی وسط مدتی انتخابات میں شکست کا ذمہ دار براہِ راست ایران کے ساتھ جنگ کو ٹھہرایا تھا۔ سیاسی مبصرین نے اسے ممکنہ طور پر 2028 کے صدارتی انتخاب سے قبل خود کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے الگ شناخت دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ وینس نے ایکس پر 600 الفاظ پر مشتمل بیان میں لکھا کہ ’اگر آپ یہ مؤقف اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ اس جنگ کی قیمت کے طور پر اگلے چھ برس کے لیے سینیٹ سے محرومی قابلِ قبول تھی تو ضرور کریں۔ کم از کم یہ ایک دیانت دار مؤقف ہوگا۔‘ یہ غیر معمولی بیان تھا۔ حالیہ امریکی سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں کہ کوئی موجودہ نائب صدر خارجہ پالیسی کے ایک اہم معاملے پر صدر سے اس قدر کھل کر اختلاف کرے۔ مزید حیران کن بات یہ رہی کہ صدر ٹرمپ نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر جنگ نے ’بڑی حد تک‘ اثر ڈالا۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انھیں دوبارہ وہی فیصلہ کرنا پڑے تو وہ پھر یہی راستہ اختیار کریں گے۔ یہ ردعمل اس بات کا ابتدائی اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ، جو عموماً اپنے قریبی ساتھیوں سے مکمل وفاداری کی توقع رکھتے ہیں، وینس کو 2028 کی ممکنہ صدارتی مہم کے لیے نسبتاً زیادہ آزادی دے سکتے ہیں۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.