واشنگٹن(جیو نیوز)امریکا میں وسط مدتی انتخابات ( مڈٹرم الیکشن)کے لیے پولنگ کا آغاز ہوگیا۔ ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر پولنگ جاری ہے، 36 امریکی ریاستوں میں گورنرزکا انتخاب بھی ہو رہا ہے۔
امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا، جب کہ دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی۔
اس وقت ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کی 218 اور ڈیموکریٹس کی 214 نشستیں ہیں۔ایوان نمائندگان میں اکثریت کےلیے435 میں سےکم ازکم 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ایوان نمائندگان کے ارکان 2 سال کےلیے منتخب ہوتے ہیں۔
سینیٹ میں ریپبلکنز کی 53 اور ڈیموکریٹس کی 45 نشستیں ہیں، 2 نشستیں آزاد ارکان کے پاس ہیں۔سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہیں۔ سینیٹ میں 50، 50 نشستیں ہونےکی صورت میں نائب صدرکا ووٹ فیصلہ کن ہوگا۔ سینیٹرکا انتخاب 6 سال کے لیے ہوتا ہے۔
الیکشن میں تقریباً5.2 کروڑ ووٹرز پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں، امریکا میں ابتدائی ووٹنگ کے دوران 2 کروڑ 90 لاکھ افراد نے ووٹ ڈالا۔
مختلف سرویز کے مطابق ڈیمو کریٹس کو ایوان نمائندگان میں برتری ملنےکا امکان ہے جب کہ سینیٹ کا کنٹرول غیر یقینی ہے اور سینیٹ کی7 اہم نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔
ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کم ترین سطح کے قریب
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگائی ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی اہم وجوہات ہیں۔
ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت کے لیے 3 اور سینیٹ میں 4 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔ ڈیموکریٹس کامیابی کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات اور صدر کی اہم نامزدگیوں کو روکنےکا اختیار حاصل کرسکتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے مڈٹرم الیکشن کی تاریخ بھی صدر کی جماعت کے حق میں نہیں رہی۔ اس عرصے میں صرف 2 انتخابات کے سوا باقی تمام مواقع پر حکمران جماعت نے کانگریس میں اپنی نشستیں کھوئی ہیں۔
امریکی تاریخ کے مہنگے ترین مڈٹرم الیکشن
رپورٹ کے مطابق امریکی مڈٹرم الیکشن اب تک کے مہنگے ترین مڈٹرم الیکشن ہوسکتے ہیں۔
سیاسی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اوپن سیکرٹس کے مطابق اندازہ ہےکہ رواں مڈٹرم الیکشن کے اخراجات تقریباً 12 ارب ڈالر ہوسکتے ہیں۔ اوپن سیکرٹس کے مطابق ڈیموکریٹس کی طرف سے ان انتخابات پر ساڑھے 5 ارب ڈالر اور ریپبلکنز کی جانب سے سوا 5 ارب ڈالر خرچ کیے جانے کا تخمینہ ہے، جب کہ آزاد امیدوار تقریباً سوا ارب ڈالر خرچ کرسکتے ہیں۔ 2022 کے مڈٹرم پر تقریباً 9 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].