کراچی(بی بی سی)پاکستان کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں سائبر کرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیوں کے دوران 100 سے زائد خواتین سمیت 275 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
این سی سی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کاوش کراؤن سینٹر اور شاہراہ فیصل پر قائم تین بڑی کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جہاں مبینہ طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت مختلف طریقوں سے شہریوں کا ڈیٹا جمع کیا جا رہا تھا۔ کارروائی کے دوران 300 سے زائد لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔
این سی سی آئی حکام کے مطابق کراچی میں 300 سے زائد غیر قانونی کال سینٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں روایتی جرائم اب سائبر کرائم کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
حالیہ کارروائی میں ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر وہاں موجود افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
شہزاد اکبر نے بتایا کہ گرفتار افراد میں کم عمر لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض بچوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کس نوعیت کی سرگرمیوں کا حصہ بن رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں اور ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس کو ملزمان کو 24 گھنٹے تک تحویل میں رکھنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا مقصد بچوں یا خواتین کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ سائبر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].